بلوچستان، شورش زدہ علاقوں سے رپورٹنگ کرنا صحافیوں کیلئے خطرناک
عامر باجوئی
خضدار کے صحافی فضل الرحمن نے ایک مبینہ کرپشن اسکینڈل بے نقاب کیا تو ٹھیکے دار نے فون کر کے کہا کہ آپ بہت اچھے اور محنتی صحافی ہیں آپ کی مزید کامیابی اور حفاظت کے لیے دعاگو ہوں درحقیقت یہ الفاظ ایک بالواسطہ جان سے مارنے کی دھمکی تھے‘‘
فضل الرحمان کہتے ہیں عام اور تصدیق شدہ خبروں پر بھی کوئی بھی متاثرہ فریق صحافی کو یکطرفہ قرار دے کر دھمکیاں دیتا ہے یا اپنے بااثر افراد کے ذریعے فون کر کے ہراساں کرتا ہے
ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے یہاں نہ صرف تنازعاتی واقعات پر رپورٹنگ مشکل ہے بلکہ عام خبریں لکھنے پر بھی صحافیوں کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر کسی ترقیاتی منصوبے میں کرپشن کو بے نقاب کیا جائے تو ٹھیکے دار بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں
بلوچستان صحافیوں کے لیے اُن علاقوں میں شامل ہے جہاں صحافت کرنا جان خطرے میں ڈالنے اور زندگی سے کھیلنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے یہاں صحافی روزانہ خبر کی تلاش میں سنگین اور پیچیدہ حالات کا سامنا کرتے ہیں ایک جانب عسکری تنظیمیں سرگرم ہیں تو دوسری طرف قبائلی تنازعات عروج پر ہیں جبکہ یہاں کی سیاست بھی صحافت کے لیے دوستانہ ماحول فراہم نہیں کرتی
بلوچستان ملک کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں صحافیوں کے لیے کوئی روشن مستقبل موجود نہیں ہے اور یہاں کوئی ایسا شہر نہیں جس میں کسی صحافی کا خون نہ ہوا ہو تقریباً ہر شہر میں صحافی کے سرخ خون سے خبر لکھی گئی ہے اور آج تک انصاف نہیں ملا
خضدار کے صحافی عبدالواحد کے لیے خبروں کی گنجائش سکڑتی جا رہی ہے عبدالواحد نے بتایا کہ ’’میں سیاسی متنازعہ احتجاجی اور حساس نوعیت کی خبریں نہیں لکھ سکتا اگرچہ بلوچستان میں صحافیوں کے لیے کوئی ایک مخصوص بیٹ مقرر نہیں اور میڈیا ہاؤسز کی جانب سے ہر صحافی کو ہر بیٹ پر نظر رکھنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے اس کے باوجود میں صرف مثبت اور غیر متنازعہ خبریں لکھتا ہوں تاکہ کسی تنازعے کا حصہ نہ بنوں‘‘
بلوچستان میں شاید ہی کوئی ایسا سال گزرتا ہو جس میں کوئی صحافی قتل نہ ہوا ہو ہر سال کسی نہ کسی شہر سے کوئی صحافی خبر کی خاطر اپنی جان گنوا دیتا ہے اور اس حوالے سے کوئی مستند ڈیٹا بھی موجود نہیں ہے رواں سال ضلع موسیٰ خیل میں صحافی محمد اسرافیل فائرنگ کے نتیجے میں قتل ہوئے گزشتہ سال مئی 2025ء میں صحافی عبدالطیف بلوچ آواران میں قتل ہوئے اور بلوچستان میں قتل ہونے والے کسی بھی صحافی کے قاتل کو گرفتار یا سزا نہیں دی جا سکی اہل خانہ کے مطابق مقدمات بھی درج نہیں ہو سکے اگر کسی کیس میں مقدمہ درج ہوتا ہے تو نامعلوم افراد کا نام ڈال کر مقدمہ سرد خانے میں ڈال دیا جاتا ہے
پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی سنہ 2023ء کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی صوبائی میڈیا سیفٹی قانون موجود نہیں دوسری جانب سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جہاں صحافیوں اور میڈیا پریکٹیشنرز کے تحفظ کے لیے باقاعدہ صوبائی قانون نافذ کیا گیا سندھ اسمبلی نے 2021ء میں The Sindh Protection of Journalists and Other Media Practitioners Act منظور کیا جبکہ بلوچستان میں تاحال ایسا مخصوص صوبائی قانون موجود نہیں
کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری کا واقعہ جہاں غیرت کے نام پر ایک خاتون اور ایک مرد کو قتل کیا گیا مستونگ کے ایک صحافی نیاز بلوچ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس حساس علاقے سے رپورٹ کرنے پہنچ گئے اس صحافی نے کئی گھنٹے موقع پر رہ کر تمام خطرناک حقائق سوشل میڈیا پر جاری کیے جس کے بعد اسے شدید دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا یہ دھمکیاں ان قبائل کی جانب سے تھیں جو اس واقعے میں خاتون کو قتل کرنے کے مبینہ فیصلے میں شامل تھے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حقائق سامنے لانے پر قبائلی افراد بھی آپ کے خلاف ہو سکتے ہیں
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد کے مطابق جہاں صحافیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے وہاں ان پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جب بعض اوقات یہ ذمہ داریاں اپنی حدود سے تجاوز کر جاتی ہیں تو صحافی جانی خطرات سے دوچار ہو جاتے ہیں ایک طرف صحافی خود سنسر شپ پر مجبور ہوتے ہیں اور متنازعہ بیٹس سے گریز کرتے ہیں تو دوسری جانب بعض میڈیا ہاؤسز میں بیٹھے ایڈیٹرز صحافیوں پر دباؤ ڈال کر انہیں حساس اور خطرناک بیٹس پر کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں اس کے علاوہ کچھ صحافی سوشل میڈیا پر فوری کوریج کے لیے خود کو غیر ضروری خطرات میں بھی ڈال دیتے ہیں
بلوچستان میں میڈیا کا عالم یہ ہے کہ بم دھماکوں یا کسی بڑی خبر کے علاوہ چینلز عام طور پر ضلعی صحافیوں کی خبروں کو مناسب کوریج نہیں دیتے اسی مجبوری کے تحت بلوچستان کے صحافی اس جدید دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی خبروں کی تشہیر کرتے ہیں جہاں چیک اینڈ بیلنس کی کمی کے باعث بعض اوقات خبریں یکطرفہ ہو جاتی ہیں جو خود صحافی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں
ویسے ہر صحافی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز موجود ہیں مگر بلوچستان کے صحافی سوشل میڈیا پر خبریں شائع کرنے پر مجبور ہیں بغیر تنخواہوں کے باوجود صحافیوں کی کسی خبر کو ضرورت سے ہٹ کر خاص کوریج مہیا نہیں کی جاتی دوران بلوچ بھی ان صحافیوں میں شامل ہیں جو اپنے آبائی شہر کوہلو کو چھوڑ کر کوئٹہ میں خدمات سرانجام دینے پہنچ گئے مگر ادارے نے چند ماہ بعد انہیں فارغ کر دیا اب وہ سوشل میڈیا پر کوریج دیتے ہیں مگر وہاں انہیں ان کیمرہ بھی دھمکیوں کا سامنا ہوا ہے
فریڈم نیٹ ورک کی دسمبر 2025ء میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 40 کے قریب صحافی قتل ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 30 کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا مگر قاتلوں میں سے ایک بھی گرفتار نہیں ہو سکا بلوچستان کے صحافیوں کا شکوہ ہے کہ قومی میڈیا ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر آواز اور کردار ادا نہیں کرتا بلکہ بعض اوقات مسائل میں مزید اضافہ کرتا ہے جس کے باعث کئی علاقوں میں کئی دنوں تک پریس کلب بند رکھے گئے
کوئٹہ پریس کلب کو 2025ء میں انتظامیہ کی جانب سے متعدد بار نوٹس دینا اور وہاں تقریبات و پریس کانفرنسز روکنا بھی صحافیوں کے کام میں مداخلت کے مترادف ہے ایسے اقدامات میڈیا ہاؤسز کی بندش کا سبب بنتے ہیں کوئٹہ میں درجنوں اخبارات اور قومی میڈیا کے بیورو دفاتر بند کیے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں صحافی بے روزگار ہو گئے ہیں
حکومت شہید ہونے والے صحافیوں کے لواحقین کو امدادی معاونت تو فراہم کرتی ہے مگر مؤثر سیکیورٹی دینے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آتے حالانکہ حکومت خود یہ تسلیم کرتی ہے کہ بلوچستان میں صحافی جان پر کھیل کر صحافت کرتے ہیں
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’’2020ء میں کھیتران سے تعلق رکھنے والے صحافی انور جان کو قتل کیا گیا انہوں نے بلوچستان کے صوبائی وزیر کی جانب سے نجی جیل قائم کرنے کے حوالے سے خبریں شائع کی تھیں جو بالآخر ان کی موت کا سبب بنیں‘‘
منظور احمد کا بتانا ہے کہ صحافت پبلک خواہشات کے لیے کی جاتی ہے مگر تنازعات کے حوالے سے رپورٹر کو آگاہ ہونا لازمی ہے بلوچستان میں سیفٹی اور سیکیورٹی رپورٹنگ نہ ہونے کے برابر ہے تنازعات کا حل ممکن ہے صحافی بغیر فریق بنے مثبت اور یکطرفہ کے بجائے متوازن رپورٹنگ کرے تو تنازعات کم ہو سکتے ہیں اور اسی طرح صحافیوں کو ٹریننگ دینے کی بھی ضرورت ہے۔


