مائنس عمران خان فارمولا پاکستان کے لیے بربادی کا راستہ ہے، محمود خان اچکزئی

کوئٹہ +اسلام آباد (این این آئی)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ سوچنا کہ مائنس عمران خان فارمولا کامیاب ہوگا، پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک اور بربادی کا راستہ ہے۔ لانگ مارچ غیر جمہوری حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا، جمہوری احتجاج عوام کا حق ہے ، ملک کے کرورڑوں عوام کو اپنے حق کے لیے نکلنا ہوگا، جمہوری پاکستان کی تشکیل نو کرنی ہوگی سب نے آئین کا احترام کرنا ہوگا اور آئینی فریم میں کام کرنا ہوگا ،میاں نواز شریف ، مولانا فضل الرحمن ، آصف زردار ی صاحب، پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، اے این پی سب نے کم سے کم نکات پر اکھٹے ہوجائیں اور اپنی افواج سے بھی کہہ دیں کہ ہم سیاسی لوگوں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور عدلیہ اور میڈیا کو آزادی دلائیں۔ سیاسی پارٹیوںکے ووٹ سے کمزوریاں آئیں ہیں آئین ، پارلیمنٹ کے خلاف ووٹ دیا اور اپنے نے اپنے ہاتھ خود باندھے ہیں ، بے انصافیوں سے کداوتیں بڑھتی ہیں نفرتیں جنم لیتی ہیں، بے انصافیوں سے کوئی نظام نہیں چل سکتا ، کرورڑوں انسان غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جب یہ لانگ مارچ میں نکلیں گے پھر انہیں کون سنبھالیں گا۔ خود بھی توبہ کرلیں اور آئندہ کے لیے ضمانت دے دیں ۔ پاکستان وسائل کے لحاظ بہترین ملک لیکن ہمارا گزار مانگنے پر ہیں۔ دھمکیوں سے کام نہیں چلے گا،عوام کو حق حکمرانی میں شامل کرنا ہوگا، گورننس نیچے تک لیجائیں عوام کو شامل کریں عوام سارے مسائل کا حل نکالیں گے۔ محنت کش عوام ہیں ملک کو بہترین ملک بنادیں گے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب کسی شخص کو تنہا کر دیا جائے، اسے تنگ کیا جائے، خاص طور پر جب وہ حق پر ہو، اور اسے توڑنے یا دھمکانے کی کوشش کی جائے۔میں بالکل دو ٹوک بات کروں گا اگرچہ میری عمران خان سے سالوں سے ملاقات نہیں ہوئی، لیکن مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم اس شریف انسان کو اس بات پر قائل کر لیں گے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھیں۔ ہم کسی سے اس بات کا انتقام نہیں لیں گے کہ کس نے کیا کیا، لیکن دوسری جانب یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ سیاسی لوگوں کو دیوار سے لگانے اور سیاست کو بدنام کرنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہماری ایجنسیوں نے یہی کام کیا ہے، حالانکہ وہ انتہائی پیشہ ور اور قابل ایجنسیاں ہیں۔ ان کی ذمہ داریاں بین الاقوامی سطح کی تھیں، لیکن انہیں جعلی سیاستدان تیار کرنے کے کام پر لگا دیا گیا ہے۔ سیاستدان کبھی ایجاد نہیں ہوتے آپ کیمرہ، گھڑی یا میز تو بنا سکتے ہیں لیکن ایک حقیقی سیاستدان عوام کے درمیان اور گلی کوچوں سے جنم لیتا ہے، خدارا اس عمل سے گریز کیا جائے۔محمود خا ن اچکزئی نے کہا کہ میں کسی کو ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ ایک گزارش کر رہا ہوں کہ ہماری سول اور ملٹری ایجنسیوں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھیں کہ ملک میں کون کیا کر رہا ہے اور کس نے قومی دولت کو لوٹا ہے۔ ان کا اصل کام ان تمام کرپشن کے معاملات کا درست ریکارڈ اور فائلیں مرتب کرنا ہے۔عمران خان مقبولیت کے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ جب بھی انتخابات ہوں گے، عمران خان پاکستان سویپ کر جائیں گے۔ لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ لوہار کھڑا ہے، چمیار کھڑا ہے، یا فلانا کھڑا ہے۔ ایم این ایز کی اپنی ایک حیثیت ہے، لیکن بات یہ ہے کہ یہ سارے عمران خان کے مرہونِ منت ہیں۔ اگر ایسی کوئی سوچ ہو کہ مائنس عمران خان’، تو یہ پاکستان کے لیے خطرناک ہے، یہ بربادی کا راستہ ہے۔ بات یہ ہے کہ انسان جب اکیلا ہو جاتا ہے، جب آپ اس کو تنگ کرتے ہیں، وہ حق پر بھی ہوتا ہے، آپ اسے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کو دھمکیاں دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ادھر بھاگ جا¶، اُدھر بھاگ جا¶، آپ سیدھی بات کے لیے تیار ہوں، میں عمران خان سے سالوں سے نہیں ملا، لیکن میرا ایمان ہے کہ اس شریف آدمی کو ہم قائل کر سکیں گے کہ یار ماضی کو بھول جا¶، آئیں۔ لیکن انہوں نے بھی یہ کرنا ہوگا کہ پھر ایسے سیاسی لوگوں کو دیوار سے لگانے یا سیاست کو بدنام کرنے کی روش چھوڑنی ہوگی۔ ہماری ایجنسیوں نے کام ہی یہ کیا ہے، حالانکہ وہ بڑی باصلاحیت ایجنسیاں ہیں۔ آج عمران خان کی بہنوں کو گرفتار کرنے کا کیا جواز ہے؟ علیمہ بی بی اور ان کی ہمشیرہ نے ایسا کیا کر لینا تھا؟ کیا یہ دانستہ طور پر عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش نہیں ہے؟ اگر علیمہ خان لاہور میں باہر نکل آتیں تو کیا طوفان آجاتا؟ اور اگر عوام ان کے پیچھے چل پڑتے، تو یہ نقارہِ خدا تھا، پھر آپ کو ان کی بات مان لینی چاہیے تھی۔ آپ اپنے ہی عوام سے کیوں خوفزدہ ہیں؟ پشاور میں جو کچھ ہوا، اس پر میں مقتدر حلقوں سے درخواست کرتا ہوں کہ خدارا اس روش کو ترک کریں۔ ایک منتخب رکنِ اسمبلی، جن کے پاس اپنے گارڈز موجود تھے، ان پر سادہ لباس میں ملبوس نامعلوم مسلح افراد کا دھاوا بولنا اور پھر الٹا انھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ وزیر شکور خان پارلیمنٹ سے نکلے تو بغیر کسی محکمے کی وردی پہنے نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کر دی۔ یہ کون سا طریقہ کار ہے؟ کیا آپ اس ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں؟ خیبر پختونخوا میں کوئی غیر قانونی حکومت نہیں بلکہ ایک آئینی اور منتخب صوبائی حکومت قائم ہے۔ وہاں صوبائی خود مختاری موجود ہے جس پر آپ حملہ آور ہو رہے ہیں۔ کیا آپ ملک میں امریکی تاریخ کی طرز پر شمال اور جنوب جیسی لڑائی شروع کروانا چاہتے ہیں؟ خدارا اس ملک پر رحم کریں۔ پشتونخوامیپ کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اورقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اتنا غصہ کس بات کا؟ سومناتھ کیا ہے، کون سا سومناتھ، کہاں کا محمود غزنوی اور کہاں اس کا حملہ؟ ان پہاڑوں سے ہم آئیں گے، کون آئے گا اور کہاں سے آئے گا؟ ہر جگہ تو آپ کی رکاوٹیں (بیریئرز) ہیں۔ آپ غصہ کیوں ہوتے ہیں؟ جب آپ عوام کا مینڈیٹ چھینتے ہیں، جب آپ صوبائی خود مختاری کے اختیار کا احترام نہیں کرتے، جب آپ لوگوں کے ووٹ کا احترام نہیں کرتے اور انہیں اتنا بھی حق نہیں دیتے… ایک جنید اکبر نے شاید کوئی سخت بات کر دی ہو، لیکن سینکڑوں، ہزاروں لوگ تو معقول بات کرتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے یہ کہاں پڑھا ہے کہ اپنے ہی بچوں کے جذبہِ حریت کو کچلا جائے۔ جب سب رشوت خور بن جائیں گے، جب سب بکا¶ مال بن جائیں گے، تو پھر اس پاکستان کو کون سنبھالے گا؟”ویسے بھی اس حکومت کو قائم ہوئے ڈھائی سال گزر چکے ہیں، اور پچھلے ڈھائی سال سے یہ ایک غیر آئینی اور غیر قانونی حکومت چل رہی ہے۔ ہم سب مل بیٹھ کر نئے اور شفاف انتخابات پر متفق کیوں نہیں ہو جاتے؟ نیا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے اور انتخابات کروائے جائیں۔ اگر اس کے بعد یہ خدشات ہیں کہ خدانخواستہ عمران خان اس تمام صورتحال سے مایوس ہو کر کوئی انتقامی کارروائی کریں گے، تو ہم اس کی پیش بندی کر سکتے ہیں؛ ان سے یہ یقین دہانی حاصل کی جا سکتی ہے کہ ان کی جانب سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ تاہم مستقبل کے لیے یہ طے ہونا چاہیے کہ ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ کار تک محدود رہے۔ آج کل سب کا یہ نعرہ ہے کہ ‘پاکستان سب سے پہلے ‘، لیکن کیا ‘پاکستان سب سے پہلے ‘ اس طرح ہوگا کہ آپ کی اپنی مرضی چلے، میری اپنی مرضی ہو اور کسی تیسرے کی اپنی مرضی مسلط ہو؟ ‘پاکستان سب سے پہلے ‘ کا اصول تبھی ممکن ہے جب ہم سب ایک آئین پر متفق ہوں، سب اس کا احترام کریں اور اسی آئینی دائرے کے اندر رہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو آئندہ دس سالوں میں پاکستان ایک عظیم ملک بن جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات کس بنیاد پر کیے جائیں؟ جب آپ میرے گھر میں گھس کر سب کچھ اٹھا کر لے گئے ہیں، تو میں آپ سے کس چیز پر بات چیت کروں؟ میری تو محض یہ گزارش ہے کہ خدا کا خوف کریں۔ میں آپ کے خلاف نہ تو کوئی ایف آئی آر درج کروا رہا ہوں اور نہ ہی پولیس کے پاس جا رہا ہوں، میرا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ میرے گھر سے آپ جو کچھ لے کر گئے ہیں، وہ مجھے واپس لوٹا دیں۔ یہ کوئی ناجائز مطالبہ تو نہیں ہے۔ میں آپ سے کیا مانگ رہا ہوں؟ آپ جو کچھ سمیٹ کر اور گٹھڑی باندھ کر لے گئے ہیں، میں محض اپنی اسی گٹھڑی کی واپسی کے لیے آواز بلند کر رہا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر تشدد کر رہے ہیں اور گولیاں برسا رہے ہیں۔ آخر آپ کب تک گولیاں چلاتے رہیں گے؟میرے دفتر سے ایک خط ارسال کیا گیا تھا جس میں الیکشن کمیشن سے متعلق آئینی ذمہ داری پوری کرنے کا کہا گیا تھا۔ اس کا مثبت جواب موصول ہوا تھا۔ ہم نے اس سے قبل سابق اپوزیشن لیڈر کو بھی خط لکھا تھا، معلوم نہیں انہوں نے اس پر کیا کیا۔ بعد ازاں، ان کا ایک اور خط آیا جو انتہائی مناسب اور اچھے الفاظ میں تحریر کیا گیا تھا۔ میں نے اس کا جواب بھی انہی اچھے الفاظ میں دیا اور اپنے دفتر کے عملے کو ہدایت کی کہ انہیں اس بہترین خط پر شکریہ کا پیغام لکھیں۔چونکہ یہ ایک آئینی فریضہ ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ اس سلسلے میں پہلی ملاقات یہیں آئینی روم میں منعقد ہو۔ انہوں نے اپنے خط میں کسی مخصوص جگہ کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ میرے ایک دوست کا کہنا تھا کہ انہوں نے فلاں جگہ جانے سے انکار کیا ہے، تاہم خط میں ایسا کوئی ذکر نہیں تھا۔ یہ ایک آئینی فریضہ ہے اور ملاقات کہیں بھی ہو سکتی ہے، لیکن پہلی نشست یہیں ہونی چاہیے۔ اگر وہ کسی اور جگہ کا اصرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے آپ پر شک ہے اور آپ وہ نہیں ہیں جو آئین میں لکھا ہے، تو یہ مناسب نہیں ہے۔ان کے خط میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ آپ کے اور میرے دفتر کے لوگ مل بیٹھ کر معاملات طے کر لیں۔ میں اس وقت کوئٹہ جا رہا تھا جب ان کا خط موصول ہوا، اس لیے میں نے کسی کو آگاہ نہیں کیا۔ واپسی پر میں نے انہیں لکھا کہ آپ کے اچھے خط کا شکریہ، اور میں 14، 15، 16 اور 17 تاریخ تک یہیں موجود ہوں۔ اس دوران شاید وہ کہیں اور چلے گئے۔ کچھ مزید باتیں بھی ہیں جن کا میں یہاں ذکر نہیں کرنا چاہتا۔یہ محض پرامید ہونے کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے جسے ہر صورت ادا ہونا چاہیے۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں جو خوامخواہ کسی شاہی قلعے کی دیواروں کے نیچے انجام دیا جائے۔ ملاقات کہیں بھی ہو سکتی ہے، اور انشا ءاللہ ضرور ہوگی۔ یہ اجلاس اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے دو ممبران اور چیف الیکشن کمشنر صاحب کی مدت پوری ہو چکی ہے، اور اس اہم معاملے پر بات چیت ہونی چاہیے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے اکابرین کو آئین ،جمہوریت ، ون مین ون ووٹ پر قید وبند کی سزائیں دی گئی ، لیکن اپنی مان مانیوں کے نتیجے میں ملک کو دولخت کیا گیا اور آج تک نہیں بتایا گیا کہ ملک کیوں توڑا ۔انگریز دور سے آج تک ایسے گرین خاندان ہیں جو آج تک ہر اقتدار میں حکمرانی کرتے آرہے ہیں ایسے ایور گرین لوگوں اور ا ن کے خاندانوں پر پابندی عائد ہونی چاہیے کہ آپ سیاست کے قابل نہیں ہیں۔ آئیں توبہ کرلیں ، حکومت نے مینڈیٹ چھینا ہے ، پارلیمنٹ کے پر کاٹے ہیں ، جمہوری پاکستان کی تشکیل کے لیے آئیں بیٹھے مذاکرات کرے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دُکھ ہوتا ہے نواز شریف جیسا آدمی مدتوں صرف اس جرم کی پاداش میں کہ وہ کہتے تھے کہ ووٹ کو عزت دو ، پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بناﺅ اس جرم کی پاداش میں وہ دس سال سعودی عر ب میں بیٹھے رہیں ۔ بےنظیر بھٹو شہید کبھی لند ن کبھی پیرس کبھی کہاں کس لیے ۔ صرف جمہوری پاکستان کی بات کرنے کی پاداش میں ۔ ہم یہ کہتے ہیں عمران خان سے مذاکرات کی بات جہاں اٹکی ہوئی ہے ہم سیاسی لوگ ہیں ہم سیدھا کرسکتے ہیں ۔ اختلافات ہوتے ہیں لیکن سیاسی کارکن کا رابطہ کسی کے ساتھ نہیں ٹوٹتا ۔ جو بات کرنا چاہیے آئیں بسم اللہ ۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف کے جلسے وزیر اعلیٰ صاحب نے 27ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا میں اس لانگ مارچ کو ایسے لانگ مارچ کی ابتداءسمجھتا ہوں جو تب تک جاری رہے گا جب تک یہ غیر جمہوری حکومت ڈال نہیں دی جاتی ۔ لوگ آئیں گے ، اسلام آباد میں ہمارا پارلیمنٹ ہے لیکن اُس وقت آئیں گے جب سارا پاکستان نکلے گا ، یہ اپنے کنٹینرز زیادہ کرے ، شاہراہوں کو کھود نے کا جرم کرے ،شاہراہوں کو بند کرے ۔عوام ضرور نکلیں گے۔ ہم کسی کو پتھر ، گولی مارنا یا گالی دینے نہیں آنا ۔ آپ نے پاکستان کا آئین توڑا ہے ، پارلیمنٹ کو بے دست وپا کردیا ، عدلیہ کے پر کاٹ دیئے اور صحافت پر پابندیاں لگادی ہیں اورپھر یہاں جمہوری احتجاج سے روکا جارہا ہے۔ عمران خان کو بالکل غیر آئینی طور پر جیل میں رکھا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے