تربت ، انجمن تاجران کیچ کے جنرل سیکرٹری کی پریس کانفرنس،تربت اور مکران سمیت دیگر علاقوں میں ما ل بردر گاڑیوں کو نقصان پہنچانے پر کارروائی کی اپیل
تربت(بیورو رپورٹ) انجمن تاجران کیچ (رجسٹرڈ) کے جنرل سیکرٹری حاجی کریم بخش نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے تربت اور مکران کے دیگر علاقوں میں آنے والی سامان بردار گاڑیوں کو جلانے، نقصان پہنچانے اور ان کی آمدورفت میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے واقعات سے مقامی تجارت، روزگار اور عوام کی معاشی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سامان بردار گاڑیوں اور ان کے عملے کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ تجارتی سامان کی محفوظ ترسیل یقینی بنائی جائے۔پریس کانفرنس میں انجمن تاجران کیچ رجسٹرڈ کے صدر نثار آدم جوسکی، نائب صدر جمال مری، چیئرمین غلام اعظم دشتی، جوائنٹ سیکرٹری جمیل عمر بلوچ، حاجی عبدالرحمن سنگھور، حاجی فدا شیر جوسکی، عقیل مراد، عثمان اسلام، یونس حمید، حاجی رمضان زہری، معراج روشن، ناصر علی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ ایران سے آنے والی پک اَپ، مزدا اور دیگر مال بردار گاڑیوں میں خوردنی اشیاء، روزمرہ استعمال کا سامان اور تعمیراتی مواد لایا جاتا ہے۔ ان گاڑیوں کو نقصان پہنچانے سے صرف مالکان اور تاجروں کو نہیں بلکہ عام شہریوں، مزدوروں اور محدود آمدنی والے خاندانوں کو بھی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک گاڑی کسی محنت کش کے لیے محض سواری نہیں بلکہ اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور خاندان کے روزگار کا ذریعہ ہوتی ہے۔ ایسی گاڑیوں کو جلانے یا نقصان پہنچانے سے غریب خاندانوں کی معاشی بنیاد متاثر ہوتی ہے اور ان کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں میں عدم تحفظ کے باعث سامان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے تربت اور مکران کی مارکیٹوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ مکران میں روزگار کے محدود مواقع کے پیش نظر تجارتی سرگرمیوں اور نقل و حمل میں رکاوٹیں عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔ پریس کانفرنس کا مقصد کسی فرد یا گروہ پر الزام عائد کرنا نہیں بلکہ عوام کے جان و مال، روزگار اور معاشی مفادات کے تحفظ کی جانب توجہ دلانا ہے۔ اختلافات اور شکایات کے حل کے لیے پ±رامن ذرائع اور متعلقہ فورمز موجود ہیں، تاہم گاڑیوں اور تجارتی سامان کو نقصان پہنچانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، سامان بردار گاڑیوں اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور تجارتی سامان کی بلاتعطل ترسیل کے لیے مو¿ثر اقدامات کیے جائیں۔ وہ مقامی تاجروں، گاڑی مالکان اور محنت کشوں کے روزگار کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت اور روزگار کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ غریب خاندانوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔


