ملک بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ایسی حکومتیں قائم کی گئی جو عوامی اعتماد سے محروم ہیں، مولانا واسع

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیرمولانا عبدالواسع اور صوبائی جنرل سیکرٹری نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ غیر فطری، مصنوعی اور مفاداتی اتحاد وقتی سہارا تو بن سکتے ہیں، مگر عوامی قوت اور سیاسی ساکھ کے بغیر کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ آج ملک بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ایسی حکومتیں قائم کی گئی ہیں جو عوامی اعتماد، سیاسی اخلاقیات اور حقیقی مینڈیٹ سے محروم ہیں، اسی وجہ سے یہ حکومتیں اپنی بقا کیلئے ہر وقت سہاروں اور بیساکھیوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جمعیت علماءاسلام کے حقیقی عوامی مینڈیٹ کو طاقت اور مداخلت کے ذریعے چھین کر من پسند اور غیر نمائندہ لوگوں کو اقتدار پر مسلط کیا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف جمہوری عمل مجروح ہوا بلکہ دونوں صوبوں میں حکومتی رٹ، انتظامی نظم و نسق اور عوامی اعتماد بھی شدید بحران کا شکار ہوگیا۔ آج عوام خود کو بے یار و مددگار محسوس کررہے ہیں اور انہیں دہشتگردی، بدامنی، اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور لاقانونیت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حکمرانوں کی نااہلی، غیر سنجیدگی اور عوام دشمن پالیسیوں کے باعث عوام میں شدید بے چینی، اضطراب اور مایوسی جنم لے چکی ہے۔ حکومت اگر اب بھی عوام کے صبر و تحمل کا مزید امتحان لینے کی کوشش کرے گی تو حالات مزید گھمبیر ہوسکتے ہیں، کیونکہ بلوچستان کے باشعور عوام اب مزید مصنوعی نمائندگی اور نمائشی حکمرانی کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔انھوں نے کہا کہ دیرپا امن، سیاسی استحکام اور حقیقی ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب شفاف، آزاد اور غیر جانبدار انتخابات کے ذریعے حقیقی عوامی نمائندوں کو اقتدار منتقل کیا جائے۔ موجودہ اسمبلیاں آج بھی ایسے سلیکٹڈ، گمنام اور عوامی حمایت سے محروم افراد سے بھری پڑی ہیں جن کے پاس نہ عوام کا اعتماد ہے اور نہ ہی سیاسی جواز۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی فیصلے عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت سنگین معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ زراعت تباہ حالی کا شکار ہوچکی ہے، کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں، صنعت و تجارت زوال پذیر ہے، جبکہ تاجر برادری عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنا سرمایہ اور کاروبار صوبے سے باہر منتقل کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ بے روزگاری، غربت اور بدامنی نے نوجوان نسل کو شدید ذہنی دباو¿ اور مایوسی میں مبتلا کردیا ہے، مگر افسوس کہ حکومت کی جانب سے صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ، مو¿ثر اور عملی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی، جو انتہائی لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 4 جون کو بلوچستان کے غیور عوام سرزمین پشین کا رخ کریں گے جہاں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر یہ واضح پیغام دے گا کہ حقیقی عوامی طاقت، حقیقی نمائندگی اور حقیقی سیاسی آواز صرف جمعیت علماءاسلام کے پاس ہے۔ یہ اجتماع ثابت کرے گا کہ بلوچستان کے عوام آج بھی جمعیت علماء اسلام کو اپنی امید، اپنی آواز اور صوبے کے مسائل کے واحد مو¿ثر حل کے طور پر دیکھتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کی مخدوش صورتحال، سیاسی بے یقینی، معاشی ابتری اور امن و امان کے بحران کا واحد پائیدار حل عوامی رائے، جمہوری عمل اور حقیقی نمائندہ قیادت کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے، اور جمعیت علماءاسلام ہر فورم پر عوام کے حقوق، آئین کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں