کوئٹہ چمن پھاٹک بم دھماکے کے نقصانات کے تخمینے کیلئے خصوصی کمیٹی قائم

کوئٹہ( یو این اے)ڈپٹی کمشنر کوئٹہ و چیئرمین ڈسٹرکٹ کمپنسیشن کمیٹی نے چمن پھاٹک کے قریب 24 مئی 2026 کو ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصانات کے تخمینے کیلئے خصوصی ڈیمیجز اسیسمنٹ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ جاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی فوری طور پر کام شروع کرے گی اور متاثرہ علاقے کا دورہ کرکے املاک، دکانوں، گھروں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لے گی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں مختلف متعلقہ محکموں کے افسران کو شامل کیا گیا ہے تاکہ نقصانات کا شفاف اور جامع انداز میں تخمینہ لگایا جا سکے۔ کمیٹی کے چیئرمین اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ ہوں گے جبکہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سی ٹی ڈی کوئٹہ، ایکسین بلڈنگ (سٹی)محکمہ مواصلات و تعمیرات، چیف میٹروپولیٹن آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اور محکمہ زرعی انجینئرنگ کے ایگریکلچر انجینئر کو کمیٹی کے ارکان مقرر کیا گیا ہے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کرے گی اور دھماکے کے باعث متاثر ہونے والی گاڑیوں، تجارتی مراکز، رہائشی عمارتوں اور دیگر املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر فوری طور پر جامع رپورٹ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو پیش کرے گی تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل اور ممکنہ امدادی و معاوضہ اقدامات پر فیصلہ کیا جا سکےیو این اے کے مطابق چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں تباہ جبکہ قریبی عمارتوں، دکانوں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا جبکہ سیکیورٹی اداروں اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق نقصانات کے درست تخمینے کیلئے مختلف محکموں کے تکنیکی ماہرین کو شامل کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کو درپیش مالی نقصانات کی مکمل تفصیلات مرتب کی جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں متاثرہ افراد، تباہ شدہ گاڑیوں، عمارتوں اور دیگر نقصانات کی الگ الگ تفصیلات بھی شامل کرے گی حکام کے مطابق رپورٹ موصول ہونے کے بعد متاثرین کیلئے ممکنہ امدادی پیکیج اور دیگر حکومتی اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔ دوسری جانب متاثرہ علاقے کے مکینوں اور تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نقصانات کے ازالے کیلئے فوری مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ متاثرہ افراد اپنی معمول کی زندگی دوبارہ بحال کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں