انسانی حقوق کی کارکن ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کو مبینہ دھمکی آمیز پیغامات کی تحقیقات کرکے کارروائی کی جائے، مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان
کوئٹہ (ویب ڈیسک) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے مرکزی ترجمان کاشف حیدری نے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کو شرپسند عناصر کی جانب سے مبینہ دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلاف رائے کو دھونس، دھمکی اور خوف کے ذریعے دبانے کی کوشش کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے کارکنان، وکلا، صحافی اور سماجی شخصیات کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف آزادی اظہار پر منفی اثر ڈالتے ہیں بلکہ معاشرے میں خوف و ہراس بھی پیدا کرتے ہیں۔ کاشف حیدری نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے والے عناصر کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لائیں اور متاثرہ فریق کو ہر ممکن قانونی تحفظ فراہم کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان دھمکی آمیز پیغامات میں کسی سرکاری ادارے کے نام یا عہدے کا سہارا لے کر یا کسی کالعدم و دہشت گرد گروہ کا نام استعمال کرکے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے تو اس پہلو کی بھی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، لہٰذا ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی شہری، وکیل، صحافی یا انسانی حقوق کے کارکن کو اس نوعیت کی دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ نہ کیا جا سکے۔


