جعفرآباد، جھٹ پٹ، اوستہ محمد اور گنداخہ میں خشک سالی کا خدشہ، بلوچستان کے حصے کا پانی فوری فراہم کیا جائے، میر خان محمد جمالی

جعفرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کے ممبر خان محمد جمالی نے قومی اسمبلی کے فلور پر بلوچستان کو سندھ سے ملنے والے نہری پانی میں کمی کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے حصے کا پانی فوری طور پر پورا فراہم کیا جائے تاکہ جعفرآباد، جھٹ پٹ، اوستہ محمد اور گنداخہ کے علاقوں میں فصلوں اور مال مویشیوں کو تباہی سے بچایا جا سکے۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے میر خان محمد جمالی نے کہا کہ بلوچستان کے علاقے نصیرآباد ڈویڑن کی دو اہم نہریں پٹ فیڈر اور نارتھ ویسٹ کینال ہیں، جبکہ نارتھ ویسٹ کینال سندھ سے آگے چل کر کھیرتھر کینال کی صورت اختیار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹ فیڈر میں بلوچستان کے حصے کا پانی 7 ہزار کیوسک ہے، تاہم اس وقت سندھ سے مجموعی طور پر صرف 3 ہزار کیوسک پانی مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کھیرتھر کینال میں بلوچستان کا حصہ 2400 کیوسک ہے، لیکن اس وقت وہاں سے بلوچستان کو صرف 500 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جو نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔میر خان محمد جمالی نے کہا کہ پانی کی شدید کمی کے باعث جعفرآباد، جھٹ پٹ، اوستہ محمد اور گنداخہ سمیت وسیع علاقے متاثر ہو رہے ہیں، جہاں زراعت کے ساتھ ساتھ مال مویشی بھی پانی کی قلت سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے سندھ کے نمائندوں اور وزرائ کی توجہ بھی اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام پانی کے لیے ترس رہے ہیں جبکہ ان کے علاقے تباہی کی جانب جا رہے ہیں۔انہوں نے وفاقی حکومت اور محکمہ آبپاشی سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے نہری پانی کے حصے کا فوری حساب کیا جائے اور صوبے کو اس کا مکمل پانی فراہم کرنے کے لیے سندھ کے متعلقہ حکام سے مو¿ثر رابطہ کیا جائے۔میر خان محمد جمالی نے واضح کیا کہ پانی کی فراہمی میں مزید تاخیر ہوئی تو نہ صرف ہزاروں ایکڑ زرعی زمین متاثر ہوگی بلکہ فصلوں اور مال مویشیوں کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی آبادیاں اور زراعت پانی سے وابستہ ہیں، اس لیے پانی کے جائز حصے کی فراہمی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں