حب میں پانی کا بحران سنگین ،صنعتیں بند ہونے اور ہزاروں افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، سابقہ صدر حب چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری
حب (نمائندہ انتخاب)حب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اسماعیل ستار اور صدر یعقوب کریم نے اپنے جاری کردہ بیان میںکہا ہے کہ حب میں پانی کا بحران سنگین، صنعتیں بند ہونے اور ہزاروں ورکرز کے بے روزگار ہونے کا خدشہ300صنعتیں، 10 لاکھ آبادی اور 25 ہزار ایکڑ زرعی اراضی متاثر،7 ارب سالانہ ریونیو خطرے میں پڑ گیا،وزیراعظم شہباز شریف صنعتوں کو تبا ہ ہونے بچائیں، واپڈا کوطلب کے مطابق پانی فراہمی کے احکامات جاری کریں حب میں پانی کا بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر گیا ہے۔ حب ڈیم تقریباً بھر جانے کے باوجود صنعتیں، کسان اور عوام اپنے جائز حصے کے پانی سے محروم ہیں جس کے باعث صنعتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جبکہ زرعی زمینیں مطلوبہ مقدار میں پانی نہ ملنے کے باعث خشک سالی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں اور لاکھوں شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ اگر حب کی صنعتوں اور آبادی کو ان کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہ کیا گیا تو آئندہ چند ہفتوں میں متعدد صنعتی یونٹس بند ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا اور قومی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچے گا۔ حب بلوچستان کا سب سے بڑا صنعتی مرکز ہے جہاں سے حکومت کو سالانہ 7 ارب روپے سے زائد ٹیکس حاصل ہوتا ہے۔ اگر صنعتیں پانی کی عدم دستیابی کے باعث بند ہوئیں تو نہ صرف قومی خزانے کو اربوں روپے کے ریونیو کا نقصان ہوگا بلکہ برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ حب کے پاس پانی کا صرف ایک ہی ذریعہ حب ڈیم ہے جبکہ کراچی کو متعدد ذرائع سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود پانی کی تقسیم میں حب مسلسل ناانصافی کا شکار ہے۔ موجودہ تقسیم کے مطابق حب کو 36.7 فیصد جبکہ کراچی کو 62.3 فیصد پانی فراہم کیا جا رہا ہے، حالانکہ حب کی آبادی، زرعی رقبہ اور صنعتی ضروریات گزشتہ چار دہائیوں کے دوران کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ جب 1980ءکی دہائی میں پانی کی تقسیم کا فارمولا طے کیا گیا تھا ا±س وقت حب کی آبادی صرف 20 ہزار، صنعتی یونٹس کی تعداد 5 اور زیرکاشت رقبہ تقریباً ایک ہزار ایکڑ تھا جبکہ آج آبادی 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، صنعتی یونٹس کی تعداد تقریباً 300 ہو چکی ہے اور 25 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی زیر کاشت ہے۔ اس کے باوجود واپڈا آج بھی چالیس برس پرانے فارمولے پر عمل پیرا ہے جو موجودہ زمینی حقائق اور ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حب ڈیم اس وقت تقریباً مکمل طور پر بھر چکا ہے اور حالیہ مون سون بارشوں کے بعد ایک بار پھر اس کے اسپل وے گیٹس کھولنے کا امکان ہے جس سے ملحقہ دیہات زیر آب آ سکتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اسی ڈیم کے پانی سے محروم حب کے عوام، کسان اور صنعتیں شدید بحران کا شکار ہیں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ سے صنعتوں کو ان کی طلب کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا جا رہا جس کے باعث پیداواری سرگرمیاں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔ کئی صنعتیں اپنی پیداواری استعداد سے کہیں کم صلاحیت پر کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ بعض صنعتی اداروں کو عارضی طور پر اپنی پیداوار محدود کرنا پڑی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بڑے پیمانے پر صنعتیں بند ہو جائیں گی اور بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔ اس معاملے پر متعلقہ حکام سے بارہا رابطہ کیا گیا تاہم ہر بار یہ بتایا گیا کہ نئے پراجیکٹ ڈائریکٹرکا تقرر ہو چکا ہے اور وہ اس وقت زیرِ تربیت ہیں جبکہ دوسری جانب لاکھوں شہری پینے کے صاف پانی تک سے محروم ہیں۔ حب کی اکثریتی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے اور مہنگے داموں واٹر ٹینکر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ایس او ایس اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور واپڈا کو ہدایت جاری کریں کہ حب کی آبادی، زرعی ضروریات اور صنعتوں کی طلب کے مطابق فوری اضافی پانی فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی پانی کی تقسیم کے پرانے فارمولے پر ازسرِنو نظرثانی کی جائے اور ایسا مستقل نظام وضع کیا جائے جو موجودہ زمینی حقائق کے مطابق حب کے عوام، کسانوں اور صنعتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا سکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حب کو صرف صنعتی بحران ہی نہیں بلکہ معاشی بدحالی، وسیع پیمانے پر بے روزگاری، زرعی تباہی اور پانی کے سنگین انسانی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


