آواران، یوریا کھاد کی نقل و حمل اور فروخت پر پابندی، زمیندار شدید مشکلات کا شکار، نئی فصل کی کاشت متاثر ہونے کا خدشہ
آوران(انتخاب نیوز)انتخاب نیوز کے نمائندے عبدالوحید شوہاز کی رپورٹ کے مطابق ضلع آواران اور ملحقہ علاقوں کے زمینداروں اور کاشتکاروں کو رواں سیزن میں نئی فصلوں کی بوائی کے موقع پر یوریا کھاد کی سخت قلت اور حکومتی پابندی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے امن و امان کی صورتِ حال اور حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر نائٹروجن پر مبنی کھادوں (بشمول یوریا) کی نقل و حمل، خرید و فروخت اور سپلائی پر عائد کی گئی پابندیوں سے علاقے میں زرعی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ مقامی زمینداروں کے مطابق یہ وقت نئی فصل کی کاشت اور زمین کی تیاری کا انتہائی اہم مرحلہ ہے، جس میں یوریا کا استعمال فصل کے لیے لازمی ہے۔ بروقت کھاد نہ ملنے کی صورت میں فصلوں کی پیداوار میں بھاری کمی اور کسانوں کا سخت نقصان یقینی ہے۔ پابندی کے باعث مقامی مارکیٹ میں کھاد نایاب ہو چکی ہے، جبکہ ذخیرہ اندوز اور ڈیلرز من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ غریب اور چھوٹے کاشتکار سرکاری اور معقول قیمتوں پر یوریا حاصل کرنے سے بالکل قاصر ہیں۔ ڈیزل، بیج اور دیگر زرعی اجناس کی مہنگائی کے بعد یوریا کھاد کی عدم دستیابی نے کسانوں کو دہری معاشی مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے۔صوبائی حکومت اور محکمہ زراعت کا کہنا ہے کہ یہ پابندی سیکیورٹی خدشات اور دھماکہ خیز مواد کے امکانی غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک عارضی اور ضروری قدم ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی ایس او پیز (SOPs) مرتب کیے جا رہے ہیں تاکہ تصدیق شدہ کسانوں تک کھاد کی محفوظ اور منظم فراہم ممکن بنائی جا سکے۔آواران کے کاشتکار اتحاد اور مقامی زمینداروں نے اعلیٰ حکام، بالخصوص وزیراعلیٰ بلوچستان اور سیکرٹری زراعت سے درج ذیل اقدامات کا فوری مطالبہ کیا ہے، سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کے ذریعے حقیقی کسانوں کی تصدیق کر کے یوریا کی فراہمی فوری بحال کی جائے۔ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور کھاد کو گرانفروشی پر بیچنے والے ڈیلروں کے خلاف ضلعی انتظامیہ سخت مانیٹرنگ اور قانونی کارروائی کرے۔ فصلوں کی بروقت کاشت یقینی بنانے کے لیے آواران جیسے پس ماندہ ضلع کے زمینداروں کے لیے خصوصی رعایت اور سپلائی لائن قائم کی جائے۔زمینداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی مشکلات کا فوری سدِباب نہ کیا گیا تو علاقے کی زرعی معیشت تباہ ہو جائے گی اور ہزاروں خاندان روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔


