جماعت نے ہر دور میں مسلح جدوجہد اور تشدد کے خلاف دوٹوک اور اصولی موقف اختیار کیا ہے، مولانا واسع
پشین(این این آئی) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے تمام اضلاع کے امراء و نظماء کا نمائندہ اجلاس صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی زیرِ صدارت جامعہ العلوم پشین میں منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر سے ضلعی امراء، نظماءاور تنظیمی نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں تمام اضلاع کے نمائندگان نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران تنظیمی سرگرمیوں، عوامی رابطہ مہم، جماعتی کارکردگی اور اضلاع کو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ رپورٹس میں صوبے کی مجموعی صورتحال، بالخصوص امن و امان کی ابتر صورتحال، عوام کے جان و مال کا تحفظ، قومی شاہراہوں پر بدامنی، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریوں سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایک منظم، جمہوری اور پارلیمانی طرزِ سیاست پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعت ہے اور جماعت نے ہر دور میں مسلح جدوجہد اور تشدد کے خلاف دوٹوک اور اصولی مو¿قف اختیار کیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ آئین، پارلیمان، جمہوریت اور سیاسی جدوجہد کو مسائل کے حل کا واحد مو¿ثر اور پائیدار راستہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں مسلح عناصر کی جانب سے کھلم کھلا حکومتی رٹ کو چیلنج کیا جانا، قومی شاہراہوں پر ناکہ بندی، شہریوں کو ہراساں کرنا اور عوام کے جان و مال کو خطرے میں ڈالنا ایک سنگین سوال بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد مقامات پر مسلح عناصر کا بلاخوف و خطر اپنی کارروائیاں جاری رکھنا ،ناکہ بندی کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں، سامان اور کاروباری املاک کو آئے روز نذرِ آتش کیا جانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف تجارت اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ عام شہریوں میں خوف و عدم تحفظ کی کیفیت بھی پیدا کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت بدترین بدامنی، معاشی جمود اور انتظامی مفلوجیت کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ، ریاستی رٹ کا قیام اور شہریوں کو بلاخوف آزادانہ نقل و حرکت اور کاروبار کا ماحول فراہم کرنا ہے۔ اگر ریاستی رٹ کو مسلسل چیلنج کیا جائے اور عوام خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگیں تو یہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔صوبائی امیر نے اجلاس سے اپنے تفصیلی خطاب میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں جمعیت علمائ اسلام کے سیاسی، جمہوری اور عوامی کردار، جماعت کی مسلسل جدوجہد اور صوبے کے عوام کے حقوق کے لیے اختیار کیے گئے مو¿قف پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے مشکل ترین حالات میں بھی آئین، جمہوریت، پارلیمان اور عوامی حقوق کی جدوجہد کو ترک نہیں کیا اور آئندہ بھی بلوچستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی سراہا گیا۔ شرکاء نے قرار دیا کہ اسلامی دنیا کے ممالک کے باہمی تعاون، دفاعی اشتراک اور مشترکہ سلامتی کے لیے مربوط حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اس نوعیت کے تعاون کو مزید وسعت دی جائے اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس مشترکہ کاوش میں شامل کیا جائے تاکہ عالمِ اسلام اپنے دفاع، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور مو¿ثر اجتماعی نظام تشکیل دے سکے۔اجلاس میں جماعت کے تنظیمی امور، اضلاع کی کارکردگی، تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال و مضبوط بنانے، عوامی رابطے کو وسعت دینے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ ان فیصلوں اور تنظیمی اقدامات سے متعلق تفصیلات مناسب وقت پر باقاعدہ سرکلر یا پریس کانفرنس کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ موجودہ سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر جمعیت علماء اسلام بلوچستان اپنی تنظیمی صفوں کو مزید منظم، فعال اور متحد کرے گی اور عوامی مسائل کے حل، آئینی حقوق کے تحفظ اور صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد مزید مو¿ثر انداز میں جاری رکھے گی۔جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے اضلاع کے امراء و نظماء کا نمائندہ اجلاس کل بھی بدستور جاری رہے گا، جس میں تنظیمی امور، آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل اور دیگر اہم معاملات پر مزید غور و خوض کیا جائے گا۔


