پسنی کے مقامی ماہی گیروں نے ایک ماہ سے جاری ہڑتال ختم کردی
گوادر (این این آئی)مقامی ماہی گیروں نے ایک ماہ سے جاری ہڑتال ختم کردی ,پسنی کے مقامی ماہی گیروں اور بیوپاریوں کے مابین تین سالوں سے جاری تنازعہ ڈپٹی کمشنر گوادر اور ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان کی موجودگی میں حل ہوگیا،سمندر ی شکار بند ہونے کی وجہ سے مقامی ماہیگیر و بیوپاریوں کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،مقامی ماہی گیروں نے 25 سندھی ناخداو¿ں کو پسنی کے سمندر میں مچھلیاں شکار کرنے کی مشروط اجازت دے دی،مقامی ماہی گیروں نے ایک ماہ سے جاری ہڑتال ختم کردی، کوئی بھی ماہی گیر سرکلنگ کے زریعے شکار نہیں کرے گا مقامی ماہی گیروں کا موقف, سرکلنگ پر ممانعت محکمہ فشریز کے آرڈینس میں موجود ہے،مچھلیوں کا ریٹ مقامی قوانین کے مطابق ہونگے،ڈپٹی کمشنر گوادر کا فیصلہ تفصیلات کے مطابق پسنی کے مقامی ماہی گیر اور کشتی مالکان کے مابین تین سالوں سے جاری تنازعہ بالآخر نقطہ انجام کو پہنچ گیا۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ،ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان،اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری ،ڈی ایس پی پولیس ملک احمد ،فش کمپنی،انجمن تاجران،کشتی مالکان اور ماہی گیروں نمائندوں کی موجودگی میں مقامی ماہی گیروں نے 25 غیر مقامی سندھی ناخداو¿ں کو پسنی کے سمندر میں مچھلیاں شکار کرنے کی اجازت دے دی۔واضح رہے کہ مقامی ماہی گیروں کا کہنا تھا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے سندھی ناخدا پسنی کے سمندر میں مچھلی کا شکار نہیں کرسکیں گے جبکہ سندھی کلاسی کام کرسکیں گے جبکہ دوسری جانب کشتی مالکان کا کہنا تھا کہ چونکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے سندھی ناخدا کھبی وقت سے ا±نکی کشتیاں چلاتے آرہے ہیں اور مقامی سطع پر ا±نھیں مقامی ناخدا نہیں مل رہے اسی لیے ا±نھیں سندھی ناخدا لانے کی اجازت دی جائے دونوں فریقین گزشتہ تین سالوں تک اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور عدالت بھی گئے لیکن تنازعہ حل نہیں ہوسکا۔ابھی موجودہ ڈپٹی کمشنر گوادر نے پسنی کے مقامی ماہی گیر اور کشتی مالکان کے مابین جاری تنازعہ کو بالآخر ختم کرادیا دوسری جانب مقامی ماہی گیروں نے آج ڈپٹی کمشنر گوادر کے سامنے یہ موقف رکھا کہ وہ 25 سندھی ناخدا کے لیے راضی ہیں تاہم پسنی کے سمندر میں کسی کو بھی سرکلنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس پر ڈپٹی کمشنر گوادر نے کہا کہ سرکلنگ کے زریعے مچھلیاں پکڑنا محکمہ فشریز بلوچستان کے آرڈینس میں بند ہے انھوں نے کہا کہ مچھلیوں کی قیمتیں مقامی قوانین کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر پسنی کی موجودگی میں طے کی جائینگی.ڈپٹی کمشنر گوادر نے ماہی گیروں کو کہا کہ وہ اپنے جاری ہڑتال کو ختم کریں اور کل سے سمندر چلے جائیں۔مقامی ماہی گیروں ،فش کمپنی مالکان، کشتی مالکان اور انجمن تاجران نے ڈپٹی کمشنر گوادر کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے تنازعہ کو خوش اسلوبی سے حل کرایا ہے۔


