پریس کلب میں پولیس مداخلت کا واقعہ، حکومتی وفد کی پریس کلب آمد، بی یو جے کاذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

کوئٹہ (آن لائن) کوئٹہ پریس کلب میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے پر حکومتی وفد نے کوئٹہ پریس کلب آکر پریس کلب اور بی یو جے قیادت سے مذاکرات کئے۔ صحافی قیادت نے اپنے مطالبات پیش کردئیے۔ حکومتی وفد نے مطالبات وزیراعلی بلوچستان کے سامنے رکھنے اور ہر ممکن اقدامات کی یقین دہائی کرائی ہے۔صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ کی قیادت میں مزاکرات کیلئےآنے والے حکومتی وفد میں صوبائی وزیر صنعت سردار کوہیار ڈومکی، پارلیمانی سیکرٹری برائے محکمہ ایکسائز، محمد خان لہڑی، سابق صوبائی وزیر نصیب اللہ مری، وزیراعلی کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند اور وزیراعلی کے پریس سیکرٹری شیخ رزاق شامل تھے جبکہ صدر کوئٹہ پریس کلب عرفان سعید بی یو جے کے صدر منظور احمد پریس کلب سیکرٹری ایوب ترین سیکرٹری بی یو جے شاہ حسین ترین اور سینئر صحافی و مرکزی رہنما پی ایف یو جے سلیم شاہد نے حکومتی وفد سے مذاکرات کئے۔ حکومتی وفد سے مذاکرات میں صحافی قیادت نے 2 مارچ واقعہ کی تفصیلات اور پولیس کی غیر ذمہ دارانہ رویے اور پریس کلب کے تقدس کی پامالی کے حوالے سے وفد کو تفصیلی طور پرآگاہ کیا اور اپنے مطالبات پیش کئے۔ صحافی قیادت کا کہنا تھا آمرانہ دور میں بھی پریس کلبوں کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا۔ پریس کلب واحد جگہ ہے جہاں لوگ اپنی فریاد اور مسائل کی داد رسی کیلئے آتے ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں تیسری مرتبہ پولیس کی جانب سے بے جا مداخلت کرکے پریس کلب کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے جو ناقابل برداشت، آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس عمل کے ذمہ داروں کے خلاف سخت خلاف کارروائی کرے۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے بھیجے گئے حکومتی وفد نے پریس کلب میں پولیس مداخلت صحافیوں کو ہراساں کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور پریس کلب کے تقدس کا اعتراف کیا۔انہوں نے کہا کہ پریس کلب میں رونما ہونے والے واقعہ کا وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوٹس لیا ہے۔ حکومت اس قسم کے واقعات کو روکنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے صحافی قیادت کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات پر جمعرات تک کا وقت مانگتے ہوئے بی یو جے اور پریس کلب سے آئندہ کے لائحہ عمل کو موخر کرنے کی درخواست کی۔ جس کو صحافی قیادت نے قبول کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ مطالبات پر عملدرآمد کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں گے۔ واقعہ پر مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں