ترکی پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے دوبارہ قیام میں تعاون کرے گا، اردوان

ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوس ناک حملوں کی شدید مذمت کی۔وزیراعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔دونوں رہنماو¿ں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔

دوسرای جانب وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور دونوں رہنماو¿ں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ترکیے کے صدر کے ایکس اکاونٹ پر ایک جاری بیان کے مطابق پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا، اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے دوبارہ قیام میں تعاون کرے گا، جو ترکی کے اقدامات کے ذریعے بھی پہنچی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں