چمن، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو تحویل میں لینے کیخلاف احتجاج، کوژک ٹاپ بلاک

چمن: بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو تحویل میں لئے جانے کے خلاف کوژک ٹاپ پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، امپورٹ اور ایکسپورٹ کا سلسلہ مکمل رک چکا ہے بلکہ شدید گرمی میں گاڑیوں، ویگنوں میں پھنسے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، کوژک ٹاپ پر گاڑیوں کی کئی کلو میٹر لمبی لائنیں لگ گئیں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گز شتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان کے علاقے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی عمل میں لائی گئی تھی اور کارروائی کے دوران 22گاڑیوں تحویل میں لے لی گئی تھیں جس کے خلاف گاڑی مالکان و دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کوژک ٹاپ کو دھرنے دے کر احتجاجاً بند کردیا، کوژک ٹاپ پر جاری دھرنے کے باعث پاک افغان شاہراہ پر ٹریفک اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئی ہیں۔ احتجاجی دھرنے میں شریک افراد الزام عائد کررہے ہیں کہ ان سے نہ صرف بڑے پیمانے پر گاڑیوں کے بدلے رشوت لی گئی بلکہ ان کی گاڑیوں کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے وہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک ان کی تحویل میں لی جانے والی گاڑیوں کو چھوڑ کر ان کے گرفتار ڈرائیورز کو رہا نہیں کیا جاتا۔ دھرنے کے باعث کوژک ٹاپ پر گاڑیوں کی کئی کلو میٹر لمبی لائنیں لگ گئی ہیں اور شدید گرمی میں مسافروں اور ڈرائیورز کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ احتجاج کے خاتمے کے لئے انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے لئے دو راؤنڈز بھی ہوئے تاہم وہ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے اور آخری اطلاعات تک کوژک ٹاپ پر دھرنے کا سلسلہ جاری تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں