وزیر داخلہ اپوزیشن کو منانے تھانے پہنچ گئے، مذاکرات بے سود

کوئٹہ(سٹاف رپورٹر) بلوچستان اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے موقع پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ پر اپوزیشن اراکین کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے سلسلے میں اپوزیشن اراکین گرفتاری دینے بجلی روڈ تھانے پہنچے تاہم بلوچستان اسمبلی کے 16اپوزیشن ارکان کو پولیس نے شامل تفتیش کرتے ہوئے ان کی گرفتاری التواء میں رکھ دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز بلوچستان اسمبلی کے16اپوزیشن اراکین ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، ملک نصیر احمد شاہوانی، نصر اللہ زیرے، ثنابلوچ،میر زابد علی ریکی، احمد نواز بلوچ، شکیلہ نوید دہوار، میر اکبر مینگل، بابورحیم مینگل، سید عزیز اللہ آغا، میر حمل کلمتی، اختر حسین لانگو، مولوی نور اللہ، مکھی شام لعل لاسی، اصغر علی ترین، حاجی نواز کاکڑتھانہ بجلی روڈ پہنچے تاہم پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا گیا جس پر اپوزیشن اراکین نے واپس جانے سے انکار کردیا، ذرائع کے مطابق پولیس نے اپوزیشن اراکین کو شامل تفتیش کرکے ان کی گرفتاری التواء میں رکھ دی ہے۔ اس سے قبل اپوزیشن اراکین گرفتاریاں جلوس کی شکل میں بجلی روڈ تھانے پہنچے۔ اپوزیشن اراکین کی جانب سے اجتماعی گرفتاریاں دینے کے اعلان کے بعد کوئٹہ شہر کے ریڈ زون میں سیکورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کردیئے گئے تھے۔ علاوہ ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا کہ پہلے حکومت نے اپوزیشن اراکین پر مقدمہ درج کیا اور جب وہ گرفتاری دینا چاہتے تو انہوں نے شہر کو خاردار تاریں لگا کر بند کردیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ملک ولی کاکڑ، قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ، ملک نصیر شاہوانی و دیگر نے کہاکہ ہم پرامن طریقے سے گرفتاری دینا چاہتے ہیں صوبائی حکومت نے ایم پی ہاسٹل کے تمام راستے سیل اور فورسز کی بھاری نفری تعینات کی انہوں نے کہا کہا صوبائی حکومت کی نیت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے حکومت پرامن طریقے سے گرفتاری سے بھی خوف زدہ ہے صوبائی حکومت کی مرتضی بھٹو والا ماحول بنارہی ہیں سمجھ نہیں آرہاہے کہ اتنے سیکورٹی اہلکار کیو تعینات کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے اسمبلی اجلاسوں کا بائیکارٹ کیا ہے حکومت کا ہم پر فنڈز کی خاطر احتجاج کرنے کا الزام جھوٹ کا پلندہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔دریں اثناء رات گئے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو،بشریٰ رند اور مبین خلجی تھانے پہنچ گئے اس موقع پر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم 10گھنٹوں سے بیٹھے ہیں اگر ہم مجرم ہیں تو گرفتار کیا جائے ہمارے دو مطالبات ہے کہ ہمیں گرفتار کریں یا حکومت ایف آئی آر واپس لے اس موقع پر ضیاء لانگو نے کہا کہ پولیس نے ایف آئی آر اپنی مرضی سے کاٹی ہے ہم کوشش کریں گے کہ ایف آئی آر واپس لے

اپنا تبصرہ بھیجیں