ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی حکومتی اعلان اہم اقدام ہے، کبیر محمد شہی
منگچر:ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی حکومتی اعلان اہم اقدام ہے1948 ء سے جاری بلوچستان کامسئلہ سیاسی طورپرمذاکرات سے ہی حل ہوسکتی ہے مگر عملی اورسنجیدگی سے کام کیا جائے میرکبیراحمدمحمدشہی سابق سینیٹر اورنیشنل پارٹی کے نائب صدر نے کہاہے کہ بلوچستان کامسئلہ خالصتاً سیاسی طورپر مذاکرات سے حل ہوسکتی ہے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ ناراض بلوچ رہنماں سے ملاقات کرکے انہیں مذاکرات کے لیے کسی حدتک راضی کرلیا تھالیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں پالیسیوں اورمنصوبہ بندی کاتسلسل نہیں رہتا نئی حکومت اورنئے لوگ آنے سے پالیسیاں تبدیل ہوتی ہیاب بھی وقت ہے کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز جوہان کراس منگچرمیں قبائلی رہنما حافظ منظوراحمدمحمدحسنی کی جانب سے دیے گئے عصرانے میں میڈیا اورقبائلی رہنماں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سید آغااشرف شاہ چشتی، حافظ منظوراحمدمحمدحسنی،میرنوشیروان محمدشہی، ٹکری عبداللطیف محمدشہی، حاجی نورمحمدمحمدشہی، حاجی طارق محمدشہی، میرعطا الرحمن محمدشہی،فضل محمدشہی،ودیگر قبائلی وسیاسی رہنما موجود تھے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کامسئلہ مذاکرات اوربات چیت کیذریعے حل کیا جاسکتا ہے وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی بات کرنا اہم اقدام ہے مگر ایک بااختیاراورسنجیدہ کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں سیاسی اورقبائلی زعما کو شامل کیا جائے تاکہ ان پر ناراض بلوچ رہنما بھی اعتماد کریں اورمذاکرات کاماحول پیدا ہوجائے انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی روزاول سے کہتی ہے اوریہ موقف رکھتی ہے کہ بلوچستان کیمسئلے کاحل جی تھری نہیں ڈائیلاگ ہے جی تھری سے اگرمسئلہ حل ہوتا تونصف صدی سے زائد کاعرصہ گزرنے تک حل ہوجاتا مگرجب بھی مذاکرات ہوئے لیکن مذاکرات پرعملدرآمدمکمل طورپرنہیں ہوا مذاکرات میں شرائط کی پیروی نہیں کی گئی اس لیے اب اعتماد کے فقدان کے باعث ثالثین ذمہ داری لینے سے کتراتے ہیں ایک سوال کے جواب میں کہاہے کہ پی ڈی ایم کابیانیہ اپنی جگہ پرقائم ہیعوام اسی بیانیے کے بنا پر پی ڈی ایم کے ساتھ کھڑے ہیں جس کی واضح مثال بلوچستان میں لاکھوں لوگوں کی سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے جنازے میں شرکت اوراس کے جنازے کااستقبال ہے کیونکہ شہید عثمان کاکڑ نے جمہوریت کے حقیقی بحالی اورغیرجمہوری قوتوں کی جمہوریت میں مداخلت کے خلاف مزاحمت کیا تھا جب تک ملک میں صاف شفاف اورغیرجانبدانہ الیکشن کاانعقاد نہیں ہوتا اورجب تک حقیقی عوام کی ووٹوں سے منتخب لوگوں کو اسمبلی میں لایاجائے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعلی الیکشن سے پہلے سلیکٹ کی جاتی ہے اورپورے الیکشن میں سلیکشن کے تحت لوگوں کو لسٹ بناکرکامیاب بنایاجاتا ہے اس لیے پی ڈی ایم اپنے آب وتاب سے قائم ہے اوراپنے مقاصد کے حصول جس میں جمہوریت کی حقیقی بحالی، انتخابات میں مداخلت کاراستہ روکنے اورپارلیمنٹ کی توقیر بحال ہونے تک پی ڈی ایم کی جدوجہد جاری رہے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ قبائلی تنازعات بلوچستان کے معاشرے کااہم مسئلہ ہے اسکے لیے قبائلی سربراہوں اورمعتبرین ومعززین کو مزید عملی اقدامات اٹھانی چاہیے۔


