پی ڈبلیو ایف سے مشاورت کے بعد محنت کشوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں گے ،ملک سکندرایڈوکیٹ
کوئٹہ: پاکستان ورکرز فیدریشن بلوچستان کے جانب سے لیبر لاز اور مائنز ایکٹ 1923پرایک روزہ میٹنگ کوئٹہ کے مقامی منعقد ہوا جس میں بلو چستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ بی این پی کے ایم پی اے حاجی احمد نواز بنگزئی پاکستان ورکرز فیڈریشن کے نیشنل کوارڈینٹرشوکت علی انجم بی این پی عوامی کے مر کزی سیکر ٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناش لہڑی پی ڈبلیو ایف کے مر کزی چیر مین ما سلام بلوچ حاجی عبد الکریم پیر محمد کاکڑ ناصر راہی عزیز احمد سارنگزئی ملک سعید جان لہڑی ودیگر نے شرکت کی اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ محنت کش ملک ومعاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے انھوں نے پی ڈبلیو ایف کی لیبر قوانین پروگرا موں کو سراہاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی 7لیبر لاز پاس کر چکے ہیں اور5لیبر لاز ڈیبل پر ہے وہ بھی پاس ہوجائے گے انھوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ورکرز فیڈریشن کے لیبر لاز کے حوالے سے تجاویز پر ان کے لیڈر شپ سے مشاورت کے بعد ایسا قانو نی سازی کرے گے جو محنت کش طبقے کے لئے اسانیاں پیدا کرے ان کے جملہ حقوق محفوظ اور قابل عمل بھی ہو حاجی احمد نواز بنگلزئی نے کہا کہ ابھی تک مائنز میں مائنز ایکٹ 1923میں تر میم نہ ہونا قابل افسوس ہے انھوں نے کہ ہم کوشش کرے گے کہ پی ڈبلیوایف کے تجاویزکو لیبر لاز کا حصہ بنا کر قانون سازی کرے گے انھوں نے کہا کہ مائنز ایکٹ 1923میں موجودہ حالات کے مطابق ترامیم کرے گے شوکت علی انجم نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد باقی صوبوں نے اپنے لیبر قوانین نہ صرف بنائے ہیں بلکہ اس میں ضرورت کے مطابق تر ا میم بھی کر چکے ہیں انھوں نے کہا کہ کے پاکستان ور کرز فیڈریشن ملک بھر میں لیبر قو انین پر ممبران اسمبلی،تمام سٹیک ہولڈرز اور مزدور لیڈران کے ساتھ سیمنار اور میٹنگ کرتے ہیں اور ملک بھرمیں اسی حوالے سے اگا ہی مہم چلا رہے ہیں اس قبل اسد محمود نے نے لیبر لاز اور مائنز ایکٹ 1923کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مائنزایکٹ ایک ایسا قانون ہے جس میں کیویریز میں شرائط کار جائے کارورکرز کے حقوق کاتحفظ اور صحت وسلامتی کوباضابطہ بنانا ہے انھوں نے کہا کہ یہ ایکٹ یہ تقاضا کہ مائنز ورکرز کے لئے طبی آلاتابتدائی آلات اوردوسرے حفاطتی اقدامات کا بندوبست کرنا یہ قانون کسی بھی خاتون ورکرزکوزیر زمین مائنز می ں کام کرنے سے منع کرتا ہے انھوں نے کہا کہ یہ ایکٹ مائنز مالک،حکومت اور محنت کش کے حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کے تعین کرتاہیں انھوں نے بلوچستان میں کول مائنز میں حادثات کے وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی اقدامات کا فقدان صحت وسلامتی کے قانون پر عمل درآمد کا نہ ہونا اگاہی کی کمی غیر ذمہ دارانہ رویہ ذاتی حفاظتی سامان کی عدم دستیابی ابتدائی طبی امداد کا میسر نہ ہونا میتھین گیس ودیگر گیسز حادثات کے باعث بنتے ہیں انھوں نے کہا کہ پاکستان ورکرز فیڈریشن نے حکومت کو مائنز ایکٹ 1923میں ترامیم تجویز کی ہے کہ ایکٹ 1923میں موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم اہنگ کیا جائے جر مانے کی شرح بڑھائی جائے بلوچستان میں کول مائنز کی گہرائی 3ہزار سے 6ہزار فٹ تک پہنچ چکی ہے اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ گہرائی کی حد مقرر کرنے کی ترمیم کی جائے انھوں نے کہا کہ تمام مائنزورکرز کو باقاعدہ تر بیت دی جائے مائنز ورکرزکوڈیتھ کمپنشن اور دیتھ گرانٹ اکٹھا ادا کی جائے انھوں نے کہا کہ پاکستان ورکرز فیڈریشن کی کوشش ہے کہ مزدور قوانین کو آسان کرواس سلسلے میں وفاق سمیت تمام صوبوں میں قانون سازی کے لئے آگاہی مہم چلارہے ہیں ما ما سلام بلوچ پیر محمد کاکڑ نے بھی میٹننگ سے خطاب کیا۔


