اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہے، مولانا محمد خان شیرانی
حب(نمائندہ انتخاب)جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنماء مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ ملک میں PDMکا کوئی مستقبل نہیں ہے اور اب آثار بھی کچھ اسی طر ح کے نظر آرہے ہیں کہ PDMبکھر چکا ہے اور عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی دعا کریں کہ دوسرے ٹرن اوور کیلئے انہیں اقتدار نہ ملے، اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر تی ہے،ہماری جماعت کا نام جمعیت علماء اسلام پاکستان ہے اور ہمارے دستور میں یہ دفاع بھی موجود ہے کہ دستوری ترمیم کرنا ہو تو اس میں مرکزی عمومی کے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جماعت کے اسم کے ساتھ نام الاٹ ہے کرنا گروپ بن جاتا ہے دستور کے مطابق ہم جمعیت علماء اسلام پاکستان کے ارکان تھے ہیں اور رہیں گے ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز حب میں رابطہ مرکز جمعیت علماء اسلام پاکستان لسبیلہ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہاکہ دنیا میں وہ ممالک جن کی حاکمیت وملکیت حتمی ہے ان میں امریکہ،برطانیہ،فرانس،چین اور روس شامل ہیں اور مسلم دنیا کے جتنے بھی ممالک ہیں وہ خطے ہیں جو انگریزوں نے مسلمانوں کی حاکمیت چھین کر اپنی حاکمیت پر لائے اور ان مسلم خطوں پر جتنی بھی حکومتیں ہیں وہ ان کے پاس یہ خطے بطور امانت ہیں جبکہ پوری دنیا پر حاکمیت اقوام متحد کی ہے کسی بھی حکومت کو جن اداروں کی ضرورت ہوئی ہے وہ ادارے اقوام متحد ہ میں موجود ہیں حتیٰ انکا پولیس انٹر پول ہے اورعدالت کا مرکز یہ ہے کہ بعض حکمرانوں پیش ہونے کی ہدایت کر تے ہیں بعض ممالک ایسے ہیں جن کی جنگ سیاسی ومعاشی ہوتے ہیں اور پوری دنیا پر محض اس لیئے جنگ مسلط کرنا ہے کہ انکی بالادستی تاکہ انکے جنگی سازوسامان اسلحہ فروخت ہونے کے مواقع مل سکیں اس وقت پوری دنیا میں خون ریزی کی جنگ لڑی جارہی ہے جس کے محرکات یہ ہیں کہ اقوام متحد ہ حاکم ہے اور امریکہ اپنے وجود اور بقاء کیلئے پوری دنیا پر جنگ مسلط رکھنا ضرورت سمجھتا ہے تاکہ اسکی دنیا پر بالادستی ہو اور معیشت بہتر ہو اور امریکہ پوری دنیا پر اپنی حاکمیت قائم رکھنا چاہتا ہے اور دنیا کے نئے نقشے اپنے مفادات کے مطابق چاہتا ہے انھوں نے کہاکہ دنیا فطر ی طور پر توحید کی جانب جائے اور کوئی ایسی قوتیں جو چاہئے مذہبی یا قوم پرست ہودنیا کو دوبارہ تقسیم کی جانب لے جائیں اور جو قوتیں جنگ کو اپنی سیاسی ضرورت سمجھتے ہیں اس کیلئے ایندھن فراہم کرتے ہیں انھوں نے کہاکہ افغانستان میں ایک تبدیلی آئی ہے اس تبدیلی کو نہ انقلاب کا نام دیا جائے اور نہ ہی فتح کا اشرف غنی کو جس اقتدار کی کرسی پر بٹھایا گیا تھا اسے ہدایت کی گئی وہ استعفیٰ دیں اور طالبان سے ایک معاہدہ کیا گیا افغانستان میں بین الاقوامی سطح پر عارضی حکومت ہے آگے کوئی اور حکومت ہوگی شایدمستقل حکومت کہا جائے اگر طالبان کی حکومت قطر کے معاہدے کے پہلے شق پر عمل کریں اور تشکیل حکومت ہو تو طالبات کے اپنے صفوں میں اشتعال پیدا ہو گا اور پاکستان بھی طالبان حکومت سے مطالبہ کرے گا کہ TTPکو اپنے صف سے نکال دیں یا انہیں قابو میں رکھیں آگے جاکر حالات نظر نہیں آرہے ہیں انھوں نے کہاکہ وہ سمجھتے ہیں ہمارا جوا سٹیبلشمنٹ ہے اس کا ادارہ ہمارانہیں ہے بلکہ بین الاقوامی اسٹیلشمنٹ کا بروکر ہے ادارہ ہے لیکن اس کے افراد ہمارے حق میں ہیں اس افراد اور اشخاص اپنے ہوں اور ادارہ پرایا ہو تو پالیسیاں ان دونوں کے تسلیم ہونے کی صورت میں مرتب ہونی چاہئے اور یہ نہ ہو کہ ایسی پالیسی مرتب کی جائیں کہ جو ا سٹیبلشمنٹ کے افراد شخصی ہمدردیاں وہ بھی پرایا اداروں کی مجبوریوں میں شامل ہوں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں میں کہا کہ ملک میں PDMکا کوئی مستقبل نہیں ہے اور اب آثار بھی کچھ اسی طر ح کے نظر آرہے ہیں کہ PDMبکھر چکا ہے اور عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی دعا کریں کہ دوسرے ٹرن اوور کیلئے انہیں اقتدار نہ ملے انھوں نے کہاکہ میاں نواز شریف کے حوالے سے میڈیا میں جو باتیں کی جارہی ہیں لیکن بہ ظاہر فوجی ترجمان کی جانب جو پریس کانفرنس کی گئی اس سے ایک رائے سے کہا جاسکتا ہے کہ نواز شریف سے کوئی ڈیل نہیں ہو رہی بلکہ اس کیلئے برطانیہ کے مقدمات مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ افغانستان میں تبدیلی آنے کے بعد TTPپر طالبان قابو پاسکیں یا انہیں اپنے صف سے نکالیں گے وزیر ستان میں کچھ تو ہو رہا ہے وہاں باڑ بھی لگائے جارہی ہے اوربلوچستان کے بھی مشکلات پیدا نہ ہو ں جمعیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مولانا محمد خان شیرانی نے کہاکہ الیکشن کمیشن میں 2002اور2018میں جمعیت علماء اسلام پاکستان (ف) رجسٹرڈ ہے جبکہ ہمارے دستور کا جو دفاع ہے اس میں ہماری جماعت کا نام جمعیت علماء اسلام پاکستان ہے اور ہمارے دستور میں یہ دفاع بھی موجود ہے کہ دستوری ترمیم کرنا ہو تو اس میں مرکزی عمولی کے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اس قسم دستور میں کوئی ترمیم ہوا ہی نہیں ہے جس میں (ف) کا اضافہ ہو جبکہ ساتھیوں کو بتائے بغیر یہ عمل انجام دیا گیا ہے اب گویا ایسا لگتا ہے کہ جماعت کے اسم کے ساتھ نام الاٹ ہے اور ایک گروپ ہے انھوں نے کہاکہ دستور کے مطابق ہم جمعیت علماء اسلام پاکستان کے ارکان تھے ہیں اور رہیں گے انھوں نے کہاکہ ہماری سرکار اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کر تا ہے اور سیاسی جماعتوں کے عمائدین کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل میں بنیادی طور پر قانون سازی نہ ہو برائے راست اس آرٹیکل پر عمل نہیں کیا جاسکتا ہے اور 2015میں ان ہی سیاسی جماعتوں کے عوامی نمائندوں نے قومی داخلی سلامتی کا ایک پلندہ پاس کیا او ر جس میں انھوں نے موقف یہ اختیار کیا کہ پاکستان کو سرحدوں پر کوئی خطر ہ نہیں ہے اب جب پاکستان کو سرحدوں پر خطرہ نہیں تو مسلح دفاع ادارے سرحدوں پر کیوں جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ ملک کو اپنے ہی لوگوں سے خطرہ ہے سیاسی خطرہ مذہب سے جو نظام و قانون دیتا ہے اور معاشی خطرہ قوم پرستوں ہے جو قومی حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس پالیسی میں انھوں نے پہلانشانہ مذہب کو بنایا ہے اس موقع پر جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنماء سابق سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی،سابق ایم پی اے عبدالمالک،پروفیسر عبدالحئی،مولانا محمد عالم لانگو،حافظ منصور احمد مینگل،حاجی محمد صادق نورانی،حاجی نسیم کاکڑ،ملک اسلم،نعمان خان،وحید خان سمیت کارکنان موجود تھے قبل ازیں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنماء مولانا محمد خان شیرانی نے حب میں رابطہ مرکز جمعیت علماء اسلام پاکستان لسبیلہ کا افتتاح کیا۔


