بلوچستان میں آر ٹی آئی کا قانون پاس، حکومت عملدرآمد کرانے میں ناکام
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی آر ٹی آئی کا قانون پاس کرالیا گیا تاہم حکومت اپنے ہی پاس کردہ بل پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی معلومات تک رسائی کے بل کیلئے انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا نہ ہی انفارمیشن آفیسرز کو تاحال تعینات کیاجاسکاجس سے کوئٹہ سمیت صوبے بھر کے باسیوں کو مشکلات کاسامناہے تو وہی صحافی بھی اس مشکل میں عوام کے ساتھ نظرآرہے ہیں .معلومات تک رسائی کی مختلف درخواستیں جمع کرانے والی صحافی نبیلہ نازکہتی ہے کہ انہوں نے صحت، تعلیم ،کیسکو ،موٹروے پولیس ،ڈپٹی کمشنرآفس سمیت مختلف سرکاری دفاتر میں معلومات تک رسائی کی درخواست جمع کرائی اور ان درخواستوں سے متعلق بارہا متعلقہ دفاتر میں اعدادو شمار کے حصول کیلئے فالو اپ کیا لیکن وہ ہرموڑ پر ناکام رہے تاہم انسانی حقوق کو بھیجی گئی معلومات تک رسائی کی درخواست پر تو جواب نہیں ملا تاہم اپنے ذرائع استعمال کرتے ہوئے انہوں نے مطلوبہ اعداد وشمار حاصل کیں نبیلہ نازکے مطابق اگرمعلومات رسائی کے بل کو کاغذات سے نکال کر عملی جامہ پہنایاجائے تو اس سے نہ صرف صحافیوں کیلئے مکمل معلومات تک رسائی کے راستے ہموار ہونگے بلکہ عوام کو بھی اپنے وسائل کے استعمال سے متعلق درست معلومات میسر ہونگی بلوچستان کی صوبائی کابینہ نے معلومات تک رسائی کابل یکم فروری2021 کو منظور کیا تھا اور اس کے بعد گورنر بلوچستان نے اس پر دستخط کیے تھے لیکن اس قانون پر عملدرآمد کیلئے رولز آف بزنس تاحال منظور نہیں کئے جاسکے جو قانون کے عمل درآمد کے ساتھ کمیشن کی تشکیل اور مختلف محکموں میں انفارمیشن آفیسرز کی تقرری اوردرخواست گزاروں کو معلومات کی فراہمی کا پروسیجر بناتاہے بلوچستان کے بہت سے صحافی اس قانون سے بے خبر ہے معلومات تک رسائی کاقانون عوام کو ان کے ٹیکس سے ہونے والے ترقیاتی کام کے علاوہ خواتین پر تشدد کے واقعات اوراس کے مقدمات ، ڈیوٹی پر موجود ملازمین کی حاضری وغیر حاضری ،صوبائی وزرا ،ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی کو ملنے والے مراعات سے متعلق معلومات کے علاوہ احتساب کے عمل کو صاف وشفاف بنا سکتاہے کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر قاسم خان مندوخیل نے کسی بھی قانون کیلئے رولز آف بزنس کو ریڑھ کی ہڈی قراردیتے ہوئے کہاکہ اگر کسی قانون کے رولز آف بزنس نہ ہوں تو لنگڑے کی مانند ہے اسی سے قانون پر عملدرآمد اور پروسیجر کی مکمل وضاحت کیاجاتاہے . 18ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کو ہے لیکن حکومت وقت نے معلومات تک رسائی کے قانون کے رولز آف بزنس کی منظوری نہیں دی قاسم مندوخیل کہتے ہیں کہ معلومات تک رسائل شہریوں کا بنیادی حق ہے جمہوری معاشرے میں یہ حق عوام کو میسر ہونا بہت ضروری ہے اور یہ جمہوریت کا حسن ہے جس میں ہر انسان کو ان کے مکمل حقوق دئیے جائیں . معلومات تک رسائی کے قانون پر عملدرآمد کرنے کیلئے صحافی، سول سوسائٹی سمیت شہریوں کو معلومات تک رسائی کی درخواستیں بھیجنی چاہیے تاکہ کلچر فروغ پائے اور آر ٹی آئی بل کی عملداری کرپشن پر بھی قابو پانے کا بہتر ذریعہ ثابت ہوسکتاہے پارلیمانی سیکرٹری سروسزاینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن بشری رند نے بحیثیت پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات یکم فروری2021کو بلوچستان اسمبلی میں پیش کیاجسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ، وہ کہتی ہے کہ معلومات تک رسائی کا بل حکومت کی عوام دوست پالیسیوں میں سے ایک ہے پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19A عوام کے معلومات تک رسائی کے حق کی مندرجہ ذیل الفاظ میں ضمانت دیتا ہے کہ ہر شہری کو عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی حاصل کرنے کا حق ہوگا . ضابطے اور قانون کی طرف سے عائد کردہ معقول پابندیوں کے ساتھ آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد پاکستان میں صوبوں کو اپنے RTI قوانین بنانے کا اختیار دیا گیا تھا . معلومات تک رسائی کا حق اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف نمبر 16 کے تحت آتا ہے جو رکن ممالک کو 2030 تک درجہ حاصل کرنے کا پابند بناتا ہے . بلوچستان حکومت نے بھی اس بل کو پاس کر کے عوام کو انکا آئینی حق فراہم کیا ہے . معلومات تک رسائی کے قانون کے رولز آف بزنس محکمہ اطلاعات جلد کابینہ میں پیش کریگی معلومات تک رسائی کے قانون پر کام کرنے والے سماجی ادارے ایڈبلوچستان کے عادل جہانگیر کہتے ہیں کہ یہ ایک اہم قانون ہے، اس سے حکومتی اداروں میں شفافیت اور جوابیت کا رجحان بڑھے گا اور یہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوں گے، اور عوام کا ان کے ٹیکس کے استعمال کا پتہ لگ جائے گا یہ لازم نہیں کے کسی بھی قانون کے رولز اف بزنس نہ ہوں اور اس کی عمل درآمد نہ ہو . یہ قانون صحافیوں کے ساتھ سب کے لیے مدد کار ثابت گار ثابت ہے . اس قانون کی عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ ہماری پولیٹیکل ول نہیں، ہمارے سیاست دانوں کو صرف روڈ و بلڈنگ میں دلچسپی ہے . ارکان اسمبلی سوئے ہوتے ہیں، عوامی مسائل کے قانون سازی پر انہیں ہم سول سوسائٹی اکثر جگاتے ہیں اور ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں اس کے قانون کے رولز آف بزنس بن گئے ہیں کابینہ کی منظوری کے بعد نوٹیفائی کئے جائیںگے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری منظوراحمد بلوچ کہتے ہیں کہ معلومات تک رسائی کاقانون2021 ایکٹ2005 سے کافی بہتر ہے جس میں بہت سی چیزوں کے خدوخال کو واضح کیاگیاہے . انفارمیشن آفیسرز کی تعیناتی اور درخواست پر عمل نہ ہونے کی صورت میں انفارمیشن کمیشن کا قیام ،معلومات کی فراہمی کیلئے مدت کا تعین (جلد سے جلد یاکم از کم 15دن اس کے علاوہ مزید 15دن توسیع ہوسکتی ہے )،معلومات کی فراہمی میں غفلت یا جان بوجھ کر نہ دینے پر انفارمیشن آفیسران کیلئے سزا (دو دن کی تنخواہ کی کٹوتی ،یا پھر جرمانہ جو20ہزار روپے ہوسکتاہے )،معلومات غائب یا تباہ کرنے جیسے اقدامات پر دو سال کی سزا یا جرمانہ جو 10ہزار سے کم نہ ہوں شامل ہیں حکومت بلوچستان معلومات تک رسائی کے قانون کی خود خلاف ورزی کررہی ہے قانون میں واضح ہے کہ 90دن میں انفارمیشن آفیسرز،انفارمیشن کمیشن کی تشکیل کرنی ہے لیکن 18ماہ گزر جانے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوسکارولز آف بزنس نہ ہونے کی وجہ سے صحافی ابھی تک معلومات تک رسائی کیلئے اس قانون کا استعمال نہیں کر پارہے مواصلات اور تعمیرات سے متعلق ایک تحریری درخواست جس کا جواب کسی بھی صحافی کی تحقیقی رپورٹ میں مذکورہ موضوع کو مستند بنانے کیلئے ضروری ہے کوجب محکمے پاس لے گیا تو کوئی بھی آفیسر لینے کو تیار نہ تھا مجھے کہاگیاکہ یہاں ایسا کوئی آفیسر نہیں جو اس درخواست کو وصول کرے اگر معلومات تک رسائی اور ڈاکومنٹڈ معلومات حاصل ہو توبلوچستان میں تحقیقاتی صحافت پروان چڑھ سکتی ہے صحافی یہاں اپنے طورپر ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں رولز آف بزنس کوئی راکٹ سائنس نہیں لیکن یہاں خواہش نہ ہونے کی وجہ سے معلومات سرد خانے کی نظر ہوجاتے ہیں حالانکہ اس وقت کے وزیراعلی نے خود ٹویٹ کیاتھاکہ اس نے ایک ایس ڈی جی کو حاصل کیا لیکن بدقسمتی سے عمل نہ ہونے کی وجہ سے حکومت اپنے بنائے قانون کی خلاف ورزی کررہی ہے ارکان اسمبلی کے ہی منظور کردہ قانون کیلئے کوئی بھی رکن سوال اٹھا سکتاہے لیکن ایک عرصے تک کوئی بھی رک اسمبلی نہیں بول سکا رکن صوبائی اسمبلی میر ظہوراحمدبلیدی کہتے ہیں کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے رولز آف بزنس بنانے میں غیر ضروری تاخیر کی جارہی ہے یہ قانون 2005 کے قانون کامتبادل ہے جس میں معلومات کی فراہمی کیلئے وقت کا تعین ،انفارمیشن کمیشن کی تشکیل ،وآفیسران کی تعیناتی کے علاوہ معلومات فراہم نہ کرنے پر سزا کا تعین کیاگیاہے یہ آئین پاکستان میں واضح ہے کہ ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ معلومات تک رسائی حاصل کرے بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے قانون کا طریقہ کارکے مطابق کوئی بھی شہری جو پاکستان کی شہریت رکھتاہوں کسی بھی سرکاری محکمہ ،گورنر اوروزیراعلی سیکرٹریٹ، بلوچستان اسمبلی ،ڈسٹرکٹ کورٹس سے معلومات حاصل کرنا چاہتا /چاہتی ہوںوہ سادہ کاغذ پر متعلقہ محکمے کے انفارمیشن آفیسر کو تحریری درخواست دیگا . جس کے بعد درخواست وصول کرنے والا آفیسر 15دن یا زیادہ سے زیادہ 30دن کے اندرشہری کو مطلوبہ معلومات تحریری صورت میں فراہم کریگاانسانی جان کے تحفظ کی صورت میں2دن کے اندر معلومات کی فراہمی ہوگی . 10صفحات سے زیادہ پر چارجز عائد ہونگے جودرخواست گزار ادا کرے گا اگرمتعلقہ آفیسر وقت مقررہ کے اندرمعلومات کی فراہمی کو یقینی نہیں بناتے تو درخواست گزار آر ٹی آئی کے تحت قائم انفارمیشن کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے تحریری شکایت نامہ دیگا . کمیشن 60یوم کے اندر موصول ہونے والے شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے فیصلہ سنانے کا پابند ہوگی، کمیشن کے پاس متعلقہ آفیسر جس نے شہری کو مقررہ وقت کے اندر معلومات فراہم نہ کرنا کا مرتکب ٹھہرا اسے سزا کے طور پر 2سال تک سزا یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں سنانے کا اختیار رکھتا ہے آر ٹی آئی ایکٹ وفاقی سطح پر منظور کیا گیا اور اسلام آباد کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے . مفاد عامہ کے مختلف مسائل کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں، ان کا جواب دیا جاتا ہے اور عوام قانون کے مطابق معلومات تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں سعدیہ مظہر نے حال ہی میںرپورٹنگ کیلئے معلومات تک رسائی کے قوانین کے تحت ”معلومات تک رسائی چمپئن ایوارڈ ”پہلی بار اپنے نام کیاہے . ان کی آرٹی آئی کے تحت کی گئی رپورٹنگ میں ایک” ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کا پتہ لگانے سے قاصر ہے سرفہرست ہے سعدیہ مظہر دی رپورٹرز کے ساتھ ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طورپر کام کررہی ہے وہ بتاتی ہے کہ ”وفاق، سندھ ،خیبرپشتونخوا اور پنجاب کے معلومات تک رسائی کے قوانین کے تحت 100سے زائد آرٹی آئیز فائل کیں جن میں وفاق اور پنجاب کے قوانین کے تحت تو جوابات مل گئے لیکن سندھ اور خیبرپشتونخوا کے قوانین کے تحت جوابات اب تک نہیں مل سکے سعدیہ مظہر کہتی ہے کہ سب سے بڑی مشکل سرکاری اداروں سے جواب لینے کی ہی ہوتی ہیں اگرمعلومات تک رسائی کا کمیشن فعال ہوں توآسان ہیں ورنہ معلومات لینے میں مہینے لگ جاتے ہیں ۔


