پنجگور کا سرحدی گاوں چیدگی پسماندگی کا شکار، عوامی حلقوں کا نوٹس لینے کامطالبہ

پنجگور (انتخاب نیوز) پنجگور کا سرحدی گاو¿ں چیدگی جس کی آبادی 3 ہزار کے قریب ہے ہر سطح پر پسماندگی کا شکار ہے یہاں سے پاک ایران دو طرفہ تجارت سے سالانہ اربوں روپے ٹیکسز کی مد میں ملکی خزانہ میں جاکر جمع ہوتا ہے لیکن عوام کے معاشرتی مسائل جوں کے توں ہیں اور یہاں پسماندگی اور غربت کا راج ہے باڑ کے اس پار برقی قمقموں کی جگمگاہٹ ہے جبکہ چیدگی میں لوگ لالٹین جلا کر رات بسر کرتی ہیں کتنا فرق ہے ہمارے اور ہمسایوں کی سوچ اور معیار میں انکے ہاں پختہ سڑکیں بجلی اور دیگر ضروریات زندگی گاوں گاوں میں موجود ہے چیدگی سےاگر کسٹم ٹریڈ کی بات کی جائے تو اس سے ہماری سرکار کو سالانہ اربوں روپے کی آمدنی ہوتا ہے مگر چیدگی میں نہ ایجوکیشن پر توجہ دی جارہی ہے اور نہ ہیلتھ کی سہولتوں پر کوئی اقدام سامنے آیا ہے پینے کا صاف پانی تو ایک خواب ہے بجلی سڑکیں شاہد علاقہ مکینوں کی مقدر کا حصہ نہیں ہیں اگر ہوتے تو سالانہ اربوں روپے ٹیکس جمع کرنے والی یہ زمین اس قدر بانجھ نہیں ہوتی یہاں بھی اچھے سکول پینے کے صاف کی فراہمی ہیلتھ کی سہولتوں پر کوئی مناسب اقدام ہوتا چیدگی میں سرکاری سکول نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ 250 کے قریب بچے اور بچیاں تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہورہے ہیں انکا جو مستقبل ہے وہ تاریکی میں گزررہا ہے معمولی بیماری کے لیے انکو ایک سو کلو میٹر کی مشکل ترین سفرطے کرکے پنجگور شہر پہنچنا پڑتا ہے راستہ کچا اور ناہموار ہونے کی وجہ سے سو کلو میٹر کی یہ مسافت 6 گھنٹے طویل جستجو کے بعد جاکر طے ہوتی ہے اس دوران مریض اور انکے لواحقین کی جو زہنی اور جسمانی کیفیت ہوتی ہے وہ ناقابل بیاں ہے ایران سرحد سے منسلک اس علاقے کے مکینوں کے لیے چیدگی پوائنٹ سے کسی بیماری یا فوتگی اور شادی بیا کے مواقعوں پر اپنے رشتہ داروں کے ہاں جانے کی سہولت بھی ختم کردی گئی ہے اتنے بڑے تجارتی پوائنٹ پر سکونت رکھنے والے مکینوں کو جہاں ٹریڈ تو ہورہا ہے مگر ایک دوسرے کی خوشی یا غم کے مواقعوں میں آنے جانے پر پابندی ہے چیدگی کے مکین 250 کلو میٹر کی مسافت دشوار گزار راستوں سے ماشکیل کلگان کے راستے سے اپنے عزیز واقارب سے ملنے کے لیے جاتے ہیں انکی یہ دکھ بھری داستاں انتہائی تکلیف دہ ہے چیدگی کے مکین محب وطن اور پرامن لوگ ہیں سرکار کو انکی معاشی اور معاشرتی ترقی پر توجہ دینا چائیے تھا مگر افسوس انکو چیدگی سے سرحد کے اس پار جانے کی اجازت نہیں ہے انکے روزگار کا زریعہ بھی بارڈر ہے بارڈر پر پہلے انکو ہاتھ گاڑی چلانے اور سرحد کے اس پار سے دو سل تیل لانے کی سہولت حاصل تھی اب یہ بھی ان سے چھین لیا گیا ہے لوگ بے روزگار ہوکر گھروں میں فاقوں پر مجبور ہیں چیدگی میں روزگار کے دیگر متبادل زرائع نہ ہونے کی وجہ سے ہر پیر وجوان کی نظریں سرحدی روزگار پر ٹکی ہوئی ہیں تاکہ دن کو دیاڑی لگ جائے اس سے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کا اہتمام ہوسکے بارڈر کے محنت کش انتہاہی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں سالانہ اربوں روپے اگلنے والی اس زمین کے اصل وارث سرکار سے رائلٹی نہیں مانگ رہے انکا ڈیمانڈ سرحد پر روزگار مزدوری ہے وہ ایک ڈسپنسری مانگ رہے بچوں کی تعلیم کے لیے سرکار سے سکول کا تقاضا کررہے ہیں چیدگی میں مقامی افراد کو سرحدی روزگار میں اہمیت دینے کا التجا کررہے ہیں انکا یہ شکوہ بھی برحق ہے کہ انکی جگہ پر غیر مقامیوں کو روزگار مل رہا ہے مگر مقامی لوگ زیروپوائنٹ پر ہاتھ گاڑی بھی نہیں چلا سکتے جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے چیدگی زیرو پوائنٹ سے ایرانی کمبے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں سرکار اگر دلچسپی لیتا تو چیدگی کے مکین ایرانی بجلی سے استفادہ کرسکتے تھے اور انکا حق بھی ہے سرکار انکے لیے بجلی فراہمی کے لیے مناسب اقدام اٹھاتا اور انکو چیدگی کی آمدنی سے تعلیم ہیلتھ بجلی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر توجہ دیتا سرکار کی عدم توجہی اپنی جگہ پر چیدگی سے جو بڑے تاجر ٹریڈ کے زریعے اربوں روپے کما رہے ہیں انکا بھی اخلاقی فرض بنتا تھا کہ وہ اس علاقے میں کچھ فلاحی کام کرتے کسی بچے کو تعلیم دلانے کا زمہ لیتے کسی گاوں میں واٹر بور کا بندوبست کرتے کسی بیروزگار کے لیے روزگار کا زرہعہ پیدا کرتے تاکہ اس پسماندہ علاقے کے لوگوں کو کچھ ریلیف ملتا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں