چمن اور تفتان بارڈر پر ضلعی افسران کی رشوت ستانی، ہر ماہ 15 ارب روپے کا تبادلہ ہوتا ہے، انوار الحق

کوئٹہ :بلوچستان اعوامی پارٹی کے سینیٹر انوارالحق کاکڑ انکشاف کرتے ہو ئے کہا ہے کہ چمن اور تفتان بارڈر پر ڈیڑھ سال سے نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر 3 کروڑ لیٹر سے زائد ایرانی ڈیزل اور پیٹرول پاکستان اسمگل کیا جا رہا ہے جبکہ اس معاملے پر مکمل مجرمانہ نوعیت کی خاموشی ہے ان خیالات کا اظہار نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ڈپٹی کمشنرز 40 ہزار روپے فی کنسائنمنٹ کے حساب سے ٹوکن جاری کر رہے ہیں اور ہر ماہ 10 سے 15 ارب روپے کا تبادلہ کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں بے روزگار نوجوانوں کے نام پر بڑے بڑے اور چھپے ہوئے چہرے اس کاروبار کو چلا رہے ہیں لیکن یہ کھلا راز ہے کہ بے روزگار نوجوانوں اور غریبوں کے بجائے طاقتور اور بااثر لوگ اس کھیل میں ملوث ہیںانہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ ڈپٹی کمشنرز کا مینڈیٹ ہے؟ ڈی سی کو ایسے اختیارات کس نے دیے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں