ملازمین کی تنخواہ میں 35 اضافہ نہ کیا تو اسمبلی کا گھیراﺅ، دفاتر کی تالہ بندی کریں گے، ایپکا بلوچستان
کوئٹہ (آن لائن) آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن بلوچستان کے اہتمام اپنے مطالبات کے حق میں بلوچستان بھر کی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی سرکاری امور کے بائیکاٹ کر کے اور پریس کلبز کے سامنے مظاہرے کئے گئے کوئٹہ میں صوبائی صدر داد محمد بلوچ ضلعی صدر رحمت اللہ زہری کی قیادت میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار سے احتجاجی ریلی نکالی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی جی پی او چوک پر احتجاجی جلسے کی شکل اختیار کرگئی ریلی کے شرکاءنے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے ریلی میں ایپکا بلوچستان کے جنرل سیکرٹری حاجی عبداللہ خان صافی، سینئر نائب صدر حاجی علی اصغر بنگلزئی ،مرکزی نائب صدر بور محمد بازئی ،نائب صدر منظور نوشاد ،سردار محمد کاکڑ ،امان اللہ زہری ،ضلعی جنرل سیکرٹری ارباب عبدالخالق کاسی ،اور فشریز ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ملازمین مرکزی صدر عبدالجلیل رند سمیت دیگر بھی شریک تھے ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے ایپکا بلوچستان جنرل سیکرٹری حاجی عبداللہ خان صافی، ضلعی صدر رحمت اللہ زہری فشریزایمپلائز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عبدالصمد بلوچ ،محمد عارف مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ8 جون کو ایپکا کے ورکرز 2دن اسلام آباد کی شدید گرمی اورتپتی دھوپ میں پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیکر اسلام آباد کے سنگدل حکمرانوں کو ملازمین کی تنخواہوں میں 30اور35 فیصد اضافہ کرنے پر مجبور کیا اب بلوچستان میں ظالم اور مفاد پرست حکمرانوں کی جانب سے وفاقی حکومت کے برعکس 35 فیصد کی بجائے 10سے 15فیصد کا اضافہ کرکے بلوچستان کے غریب ملازمین کو مزید مہنگائی کی دلدل میں دھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں بلوچستان کے حکمران غریب ملازمین کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں ایپکا بلوچستان حکمرانوں پر واضح کرنا چاہتی ہے کہ آج کوئٹہ سیمت بلوچستان بھر میں ایپکا کے ورکرز کی اتنی کثیر تعداد میں سڑکوں پرآنا حکمرانوں اور ارباب اختیار کے لئے ایک پیغام ہے کہ اگر حکومت نے آج16جون کو بلوچستان کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں وفاق کی طرز پر اضافہ نہ کیا تو بلوچستان کے سرکاری دفاتر کو مکمل تالہ لگائینگے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی بلوچستان کے تمام ملازمین کو کال دے کر اسمبلی کا گھیراﺅ کرینگے ایپکا بلوچستان اپنے حقوق پر کسی کو بھی شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیتی اور اپنے ملازمین کے جائز حق کے لئے ہر فورن پر آواز بلندکریں گئے مظاہرین اپنے حق کے مطالبات میں نعرے بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔


