2022ءسے جبری لاپتا ممتاز بلوچ کو باحفاظت بازیاب کرایا جائے، اہلخانہ کی اپیل
کوئٹہ (پ ر) جبری لاپتہ ممتاز بلوچ کی بھانجی بانڑی بلوچ نے کہا ہے کہ میرے ماموں ممتاز بلوچ کو 6 ستمبر 2022ءکو خضدار سے تیسری بار جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، وہ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز کی والدہ، میری نانی ممتاز کے انتظار میں شدید بیمار ہیں، وہ اپنے بیٹے سے ملنا چاہتی ہیں۔ بانڑی بلوچ نے سوشل میڈیا کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مہم میں شامل ہوں اور میرے ماموں کی با حفاظت بازیابی کے لیے ہماری آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ممتاز کی بحفاظت بازیابی کے لیے 4 مارچ 2024ءکو بلوچ وائس فار جسٹس کے ساتھ مل کر شام 7 بجے سے رات 12 بجے تک ایکس پر مہم چلائیں گے۔ میں آپ سب سے اپیل کرتی ہوں کہ اس مہم میں حصہ لیں اور براہ کرم #ReleaseMumtazBaloch کا ہیش ٹیگ استعمال کریں۔ یاد رہے ممتاز بلوچ مشکے کا رہائشی ہے، انہیں اس سے قبل پہلی مرتبہ 2016ءمیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، بعد ازاں سات ماہ کی گمشدگی کے بعد چھوڑ دیا گیا اور دوبارہ 2017ءمیں اغوا کر لیا گیا اور وہ جنوری 2020ءمیں بازیاب ہوئے اور پھر 6 ستمبر 2022ءکو تیسری مرتبہ انہیں خضدار سے جبری لاپتہ کیا گیا اور ابھی تک ان کا کچھ پتہ نہیں وہ کہاں، کس حال میں ہیں؟ لواحقین گزشتہ ڈیڑھ سال سے انتظار میں ہیں جبکہ ان کی والدہ شدید بیمارہیں۔ ممتاز بلوچ کے لواحقین نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے ان کی باحفاظت بازیابی کے لئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔


