میرے گھر پر قبضے میں پولیس اہلکار ملوث ہیں، حکام بالا انصاف دلائیں، بیوہ خاتون کی فریاد

کراچی (پ ر) نیشنل پریس کلب کراچی میں بیوہ خاتون دلدار جہاں زوجہ مختار احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقصود الرحمن اور اس کی بیوی نسرین مقصود نے جعلی سیل ڈیڈ بنائی اور اس کے بعد مشتبہ افراد کی مدد سے گھر پر قبضہ کرلیا۔ ایس ایس پی کورنگی، ڈی ایس پی کورنگی، ایس ایچ او کھوکھرا پار، آئی او اصغر سہتو نے کی تھی مکان نمبر H-24/2 جس کا رقبہ (80) گز ملیر توسیعی کالونی کھوکھرا پار جس کا ریکارڈ کے ڈی اے میں موجود ہے، مختار صاحب کے نام پر، بیوہ دلدار جہاں زوجہ مختار احمد کے گھر پر کے ڈی اے کے آفیسر عقیل شاہ اور شارق مقصود الرحمن اور جعلی کرائے نامہ بنا کر دلاور کی ملی بھگت سے قبضہ کرکے ان مشتبہ افراد کو علاقہ تھانہ کھوکھرا پار کی پولیس کی کالی بھیڑیں جس میں آئی او اصغر سہتو اور دیگر پولیس اہلکار ملوث ہیں، ایس ایس پی کورنگی کے آرڈر پر ایف آئی آر درج ہوئی۔ مگر آئی او نے کسی ملزم پر کوئی چھاپہ نہیں مارا اور ملزم کی سرپرستی کرتا رہا اور جعلی سرچ سرٹیفکیٹ لگا کر عدالت کو دھوکا دیا اور ایف آئی آر کو ملزمان کی ملی بھگت سے سی کلاس کروایا اور ہمیں بلیک میل کرکے 50 ہزار روپے بطور مٹھائی وصول کرکے قبضہ ہمارے حوالے کردیا، دوبارہ شارق مقصود دلاور پولیس کی سرپرستی بھاری رشوت لیکر بیوہ کے مکان پر دوبارہ قبضہ کروایا، میری ایس ایس پی صاحب سے گزارش ہے اس انکوائری کو دوبارہ ری اوپن کروایا جائے اور ایماندار آفیسر سے انکوائری کرائی جائے اور مجھ بیوہ کا حق دلوایا جائے اور ملزم دلاور شارق مقصود الرحمن اور نسرین کیخلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور میرے گھر کا قبضہ واپس دلوایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں