گرینڈ الائنس بلوچستان کا 11 اور 12 جون کو صوبے بھر میں یومِ سیاہ منانے، دو روزہ قلم چھوڑ ہڑتال کرنے کا اعلان

کوئٹہ (این این آئی) گرینڈ الائنس بلوچستان نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک مزید تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 11 اور 12 جون کو صوبہ بھر میں یومِ سیاہ منانے، سرکاری دفاتر میں لاک ڈاو¿ن اور دو روزہ قلم چھوڑ ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گرینڈ الائنس کے رہنما قدوس کاکڑ نے کہا کہ 15 جون سے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا جو صوبائی بجٹ پیش ہونے کے دن تک جاری رہے گا۔ انہوں نے صوبے بھر کے سرکاری ملازمین سے اپیل کی کہ وہ بجٹ سیشن کے دوران کوئٹہ پہنچ کر احتجاج میں شرکت کریں۔قدوس کاکڑ نے الزام عائد کیا کہ گرینڈ الائنس کے ورکرز کنونشن کو ناکام بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے، تاہم ملازمین کی نمائندہ تنظیموں نے اپنے مطالبات سے دستبردار ہونے کے بجائے احتجاجی تحریک کو مزید منظم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرینڈ الائنس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں اور وہ صرف ملازمین کے جائز مطالبات کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال سے ملازمین کے ساتھ ناانصافیوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، خواتین ملازمین کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، بلاجواز معطلیاں کی گئیں اور مذاکراتی عمل کو بارہا ناکام بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ بجٹ کے موقع پر بھی ملازمین کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تھا، جس کے بعد جیل بھرو تحریک سمیت مختلف احتجاجی اقدامات کیے گئے۔ قدوس کاکڑ کے مطابق حکومتی وفد نے مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا بلکہ بعد ازاں الائنس کے عہدیداروں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے ہوئے بعض افراد کو جبری ریٹائر بھی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ڈسپیریٹی ریڈکشن الاو¿نس (DRA) کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا، جس پر صوبہ بھر میں ورکرز کنونشنز منعقد کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کوئٹہ میں ورکرز کنونشن کے انعقاد کی اجازت دی گئی، تاہم ملازمین کے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔قدوس کاکڑ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی جماعت آج ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کے ملازمین کی فریاد سنیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں