اسد اچکزئی کی عدم بازیابی،اپوزیشن کا وزیر اعلی جام کمال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

کوئٹہ :بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اراکین نے اے این پی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کی اغواء اور عدم بازیابی کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعلیٰ بدامنی کے واقعات کی روک تھام نہیں کرسکتے تو مستعفی ہوجائیں،ایک ماہ گزر جانے کے باوجود اسد خان اچکزئی کے بارے میں اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انہیں کسی نے اٹھایا یا اغواء کیاہے،تفتیش کی رفتار مشکوک ہے جبکہ حکومتی اراکین نے اسدخان اچکزئی کے اغواء کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ جن کے گھر کا فرد اغواء ہو اس کا دکھ اس کے خاندان اور قریبی لوگوں کو ہی محسوس ہوسکتاہے یہ انسانی حقوق کی پامالی ہے،حکومت واقعے سے متعلق تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے بلکہ اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان سے بات کی جائیگی۔گزشتہ اجلاس میں باضابطہ شدہ تحریک التواء پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے بدامنی کے واقعات رونما ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ چمن، پشین،لورالائی،سنجاوی، زیارت، ہرنائی، اورماڑہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں اب تک ملوث کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیاگیا نہ ہی کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے وزیراعلیٰ بدامنی کے واقعات کی روک تھام نہیں کرسکتے تو مستعفی ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ 25ستمبر کو عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات جو گردوں کے امراض میں بھی مبتلا ہیں انہیں اغواء کیا گیا اورایک مہینے سے زائد کاعرصہ گزرنے کے باوجود انہیں اب تک بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے نہ ہی اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیر داخلہ اور سیکورٹی اداروں نے کوئی واضح بات کی ہے کوئی اجلاس تک طلب نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں وزیر داخلہ، آئی جی پولیس، ڈی آئی جی پولیس کو ایوان میں موجودہونا چاہئے تھا لیکن ان میں سے کوئی فرد یہاں موجود نہیں ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسدخان اچکزئی کو ایک ہفتے کے اندر بازیاب کرایا جائے اور اب تک ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کو ایوان کیا جائے۔ صوبائی وزیر واسا نور محمد دمڑ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی و قبائلی شخصیت کا اغواء ہے تاہم اب تک ان کے خاندان نہ ہی پارٹی کی جانب سے کسی کی نشاندہی کی گئی ہے حکومت تحقیقات کررہی ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات موجودہ حکومت میں پیش نہیں آ ئے بلکہ گزشتہ حکومتوں میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں اس معزز ایوان کے رکن اور صوبائی وزیر بلدیات مصطفی خان ترین کے بیٹے، نواب ارباب عبدالظاہر کاسی اورسیکرٹری سمیت دیگر شخصیات کا اغواء شامل ہے یہ واقعات سابق ادوار میں ہوتے رہے انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے حکومت واقعے سے متعلق تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اسدخان اچکزئی کے اغواء کے واقعے پر آج تحریک التواء پر بحث ہورہی ہے لیکن اس ایوان کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج نہ تو وزیر داخلہ ایوان میں موجود ہیں نہ ہی محکمہ داخلہ کے افسران موجود ہیں اب اگر ڈپٹی سپیکر کوئی رولنگ دیں یا وہ چیمبر میں بریفنگ لینا چاہیں تو انہیں کون آکر بریفنگ دے گا محکمے کا کوئی افسر توموجود ہی نہیں یہ ایوان بالاترہے اس ایوان کو سب جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہ 25ستمبر کو یہ واقعہ رونما ہوا پولیس سی ڈی آر کے مطابق اسدخان اچکزئی کی آخری کال ایئر پورٹ روڈ پر ٹریس ہوئی ہے ہم ہر سال اربوں روپے کوئٹہ شہر کی سیکورٹی پر خرچ کرتے ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ اسدخان اچکزئی کا کوئی پتہ چل رہا ہے اور نہ ہی ان کی گاڑی کا کوئی اتہ پتہ ہے اگر اس واقعے میں اغواء برائے تاوان والے ملوث ہوتے تو شاید اب تک وہ اہلخانہ کو فون کرچکے ہوتے ہمیں اب تک کوئی کال نہیں آئی البتہ مغوی کے کزن کے موبائل پر مغوی کے موبائل سے مس کالز مسلسل آتی رہی ہیں اس واقعے کے خلاف نہ صرف ہماری پارٹی بلکہ آل پارٹیز نے احتجاج کیا پہلے کوئٹہ چمن شاہراہ بلاک کی بعد میں شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول کر چمن میں دھرنا دیا گیا چمن دھرنا بھی ڈپٹی کمشنر کی اس یقین دہانی پرموخر کیا گیا کہ پیشرفت ہوچکی ہے جلد ہی اسدخان اچکزئی کی بازیابی سے متعلق خوش خبری ملے گی مگر افسوس اب تک کوئی خوش خبری نہیں آئی انہوں نے اسدخان اچکزئی کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر سے استدعا کی کہ وہ اس معاملے پر رولنگ دیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو نے تحریک التواء کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اس ایوان کی اہمیت کو جتنا ہم اراکین نے خودکم کیا اتنا کسی نے نہیں کیا گزشتہ اجلاس میں اس ایوان میں جمہوری قوتوں کے خلاف مذمتی قرارداد لاکر ہم نے خود ایوان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی اس ایوان میں عوامی مسائل پر بحث ہوتی ہے مگر ان پر پیشرفت نہیں ہوتی انہوں نے کہاکہ جب بھی ایوان میں ہم امن وامان پر بحث کرتے ہیں تو یہاں پر آفیشل گیلری خالی رہتی ہے آج اتنی اہم تحریک التواء پر بحث ہورہی ہے مگر وزیر داخلہ سمیت پولیس،محکمہ داخلہ کے آفیسران سمیت کوئی نہیں انہوں نے اجلاس کی صدارت کرنے والے چیئرمین سے استدعا کی کہ آئندہ اجلاسوں میں چیف سیکرٹری کو پابند کیاجائے کہ وہ اپنی اور متعلقہ آفیسران کی موجودگی کویقینی بنائیں۔انہوں نے کہاکہ 25ستمبر کو اے این پی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کو ائیرپورٹ روڈ سے اٹھایا گیا یہ کوئٹہ کی انتہائی اہم ترین شاہراہ ہونے کے ساتھ وی آئی پی روٹ بھی ہے جس پر سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں ان کی فوٹیج دیکھی جائیں انہوں نے کہاکہ ایک ماہ گزر جانے کے باوجود اسد خان اچکزئی کے بارے میں اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انہیں کسی نے اٹھایا یا اغواء کیاہے اب تک صورتحال واضح نہیں ہے اور تفتیش کی رفتار بھی مشکوک ہے شہر میں سرعام کالی شیشوں والی گاڑیاں چلتی ہے یہاں کوئی محفوظ نہیں جہاں حکومتیں عوام کو جان ومال کاتحفظ فراہم نہ کرسکیں وہاں ایسا ہی ہوتاہے ریاستوں کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ ماورائے قانون اقدامات کرنے والوں کوپکڑتی ہے مگر یہاں آج 40سال بعد بھی سردارعطاء اللہ خان مینگل کے صاحبزادے اسد بلوچ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوسکا مسخ شدہ لاشیں اور توتک سے اجتماعی قبروں کے بارے میں آج تک کچھ معلوم نہ ہوسکا،انہوں نے مطالبہ کیاکہ اسد خان کی بازیابی کے حوالے سے پولیس سمیت متعلقہ حکام ارکان اسمبلی کو بریفنگ دیں۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے کہاکہ ریاست عوام کی جان ومال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے جس کی ضمانت آئین دیتاہے اور اگر حکومت یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتی ہے تو پھر حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا حق بھی نہیں ہوتا اگر حکومت میں تھوڑی سی حس ہوتی تو اسد خان اب تک بازیاب ہوچکے ہوتے اور قانون کی بالادستی قائم ہوچکی ہوتی انہوں نے کہاکہ حکومتی رکن کی جانب سے ہم سے پوچھا جانا کہ ہم اسد خان کے بارے میں انہیں کچھ بتائیں اگر ہمیں خود علم ہوتا توہم خود انہیں بازیاب کرانے کی اپنی حدتک کوشش کرتے حکومتی رویہ قابل مذمت ہے انہوں نے اسد خان ایک بیمار انسان ہے ہمیں حکمرانوں سے کوئی توقع نہیں متعلقہ سرکاری حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسد خان کی بازیابی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔پاکستان نیشنل پارٹی کے سید احسان شاہ نے کہاکہ ہم میں سے ہرایک اپنے دل پرہاتھ رکھ کریہ سوچیں اگر یہ کچھ ہمارے خاندان کے کسی فرد کے ساتھ ہوتا تو ہماری کیا حالت ہوتی ہم اسد خان کے خاندان اور اے این پی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں عملی اقدامات کرنا حکومت کاکام ہے ہم تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں انہوں نے کہاکہ آج اتنی اہم تحریک التواء پر بحث ہورہی ہے مگر آفیشل گیلری خالی پڑی ہوئی ہے،اب تک اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی کہ اسد خان کو کس بنیاد پر کس نے اغواء کیاہے اگر متعلقہ حکام یہاں ہوتے تو بڑی حد تک ہمیں پیشرفت سے آگاہ کرتے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نائل نے اے این پی کے سیکرٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کی اغواء کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یقینا یہ افسوسناک امر ہے حکومت ان کی بازیابی کیلئے یقینی طورپر پیشرت ہونی چاہیے،ہر حکومت چاہتی ہے کہ اس کے دور اقتدار میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہو،انہوں نے اپنی اور پارٹی کی جانب سے اسد خان کے خاندان اور اے این پی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اصغرخان اچکزئی جن کی جماعت حکومت میں شامل ہے ان کی جماعت اس مسئلے کو کابینہ کے اجلاس میں اٹھائے گی۔صوبائی وزیر خزانہ میر ظہوراحمدبلیدی نے اے این پی کے سیکرٹری اطلاعات اسد خان کے خاندان اور پارٹی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ جن کے گھر کا فرد اغواء ہو اس کا دکھ اس کے خاندان اور قریبی لوگوں کو ہی محسوس ہوسکتاہے،اسد خان کا اغواء یقینا قابل مذمت ہے یہ انسانی حقوق کی پامالی ہے تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ ان کے اغواء کے محرکات کیا ہے صوبائی وزیر داخلہ ایوان میں موجود نہیں اگر وہ ہوتے تو وہ اس سلسلے میں اب تک ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کرتے تاہم میں حکومتی بینچوں کی جانب سے اسد خان کے خاندان اور جماعت کو تعاون کا یقین دلاتاہوں کہ ان کی بازیابی کے حوالے سے وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ سے بات کی جائیگی۔اس موقع پر اجلاس کی صدارت کرنے والے پینل آف چیئرمین کے رکن نصیب اللہ مری نے رولنگ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ اسد خان اچکزئی کی بحفاظت بازیابی کویقینی بنایاجائے اور وزیر داخلہ اس سلسلے میں اپنی رپورٹ ایک ہفتے میں اسمبلی میں پیش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں