بارڈر ٹریڈ پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی ہے مکران میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث صورتحال ابتر ہوچکی ہے، اراکین اسمبلی
کوئٹہ(آن لائن) بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے کہا ہے کہ مکران میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث صورتحال ابتر ہوچکی ہے، چیک پوسٹوں پر بھتہ خوری سرعام جاری ہے ،اپنے حق کے لیے بات کرنے والوں کو غائب کردیا جاتا ہے ، ارکان اسمبلی کی مولانا ہدایت الرحمن پر قلعہ عبداللہ میں ایف آئی آر درج پر کاروائی کرنے کا مطالبہ ۔ بدھ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ اف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ مکران میں کئی روز سے ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال جاری ہے انہوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی ہے ہر چیک پوسٹ پر لوٹ مار اور بھتہ خوری کی جا رہی ہے کوئی آواز اٹھاتا ہے تو اسے غائب کر دیا جاتا ہے حکومت ٹرانسپورٹروں کی بات سنے اور جن لوگوں سے متعلق شکایات ہیں ان سے بھی بات کریں مکران میں لوگ نان شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں معاشی صورتحال خراب ہے جو اپنے لیے آواز اٹھاتا ہے اس پر ایف آئی آر کاٹ دی جاتی ہے پارلیمانی سیکرٹری میر اصغر رند نے کہا پورے مکران میں دو ماہ سے بسیں بند ہیں جن کی وجہ سے ٹوڈی کاروں کا کرایہ 40 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ جہاز کی ٹکٹ بھی 40 ہزار سے شروع ہوتی ہے محکمہ ٹرانسپورٹ اور متعلقہ حکام اس مسئلے کو حل کریں حق و تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ پانچ چیک پوسٹوں پر روزانہ 10 سے 15 کروڑ روپے بھتہ جاتا ہے ہر چیک پوسٹ پر 70، 70 لیٹر ڈیزل بھی جمع ہوتا ہے پارلیمانی سیکرٹری مجید بادینی نے کہا کہ نصیر آباد، جعفر آباد میں زراعت پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے ہم پہلے سے مطالبہ کر رہے تھے آ رہے ہیں کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو ریلیف دیا جائے اب مزید ٹیکس لگا دیا گیا ہے جعفر آباد کے محکمہ بلدیات کے ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی جس پر سپیکر نے رولنگ دی کے ملازمین کے لیے متعلقہ وزیر سے بات کی جائے گی اجلاس میں مولانا ہدایت الرحمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے اوپر قلعہ عبداللہ میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس کے تحت مجھے اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے اس سے پہلے بھی میرے اوپر ایف آئی آر کی گئی لیکن ہم ظلم زیادتی جبر کے خلاف اواز اٹھاتے رہیں گے انہوں نے کہا کہ بلیدہ حملے کی مذمت کرتا ہوں یہ بلوچی اسلامی روایات کے خلاف ہے ہم کسی مسلح گروہ کے ساتھ نہیں اس موقع پر سپیکر نے رولنگ دی کے مولانا ہدایت الرحمن اپنی ضمانت کروا لیں اور ایف آئی آر سے متعلق معلومات فراہم کریں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کہا مولانا ہدایت الرحمن پر پہلے بھی ایف آئی آر کی گئی تھی اگر سپیکر کے احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور ایس ایچ او غیر قانونی طور پر ایف آئی آر درج کرتے ہیں تو اس پر ایس ایچ او کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے سپیکر نے کہا کہ ایس ایچ او کو بھی بلائیں گے اور کاروائی بھی ہوگی مولانا ہدایت الرحمن تفصیلات فراہم کریں انہوں نے کہا کہ مولانا سے پیار کرنے والے زیادہ ہیں جس پر یونس عزیز زہری نے کہا اتنا پیار بھی نہیں ہونا چاہیے اجلاس میں ارکان اسمبلی سید ظفر آغا اور اسفند یار کاکڑ نے ضلع پشین میں نئے اضلاع اور ڈویژن بنانے کے فیصلے پر وزیراعلی صوبائی کابینہ اور حکومت کا شکریہ ادا کیا بعد ازاں اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔


