الیکشن کمیشن نے پی بی-21 حب کے 39 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا

کوئٹہ /اسلام آباد(این این آئی) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی21 حب میں 39 پولنگ اسٹیشنز پر ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا جبکہ کمیشن کے ایک رکن نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے متاثرہ پولنگ اسٹیشنز پر ازسرنو پولنگ کرانے کی رائے دی ہے۔کمیشن کے دو رکنی اکثریتی فیصلے میں جسٹس (ر) اکرم اللہ خان اور رکن نثار احمد درانی نے درخواست گزار علی حسن زہری کی 10 فروری 2024 کی درخواست منظور کرتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین دنوںکے اندر اندر متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کے بیلٹ پیپرز کی دوبارہ گنتی مکمل کریں۔اکثریتی فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 218، 219 اور متعلقہ قانونی دفعات کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر پی بی-21 حب فوری طور پر تحصیل دوریجی کے پولنگ اسٹیشنز نمبر 1 تا 25 جبکہ پی بی-21 حب کے پولنگ اسٹیشنز 48، 49، 50، 51، 57، 58، 62، 64، 65، 66، 67، 68، 81 اور 82 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرے۔حکم میں کہا گیا ہے کہ دوبارہ گنتی کے دن، وقت اور مقام سے تمام امیدواروں یا ان کے ایجنٹس کو تحریری طور پر مطلع کیا جائے اور عمل کی تکمیل کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے۔کمیشن نے چیف سیکریٹری بلوچستان اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کو ہدایت کی ہے کہ دوبارہ گنتی کے روز ریٹرننگ آفیسر اور متعلقہ عملے کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے، جبکہ ریٹرننگ آفیسر کو ضلعی الیکشن افسر اور سیکیورٹی اداروں سے معاونت لینے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کے رکن بابر حسن بھروانہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں مو¿قف اختیار کیا کہ حلقے میں عام انتخابات 2024 کے بعد سنگین بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے اور ریٹرننگ آفیسر کے دفتر پر حملے سمیت انتخابی مواد کی تحویل سے متعلق سنگین سوالات اٹھے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیراگراف 9 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تین شاپنگ بیگز میں موجود انتخابی مواد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قبضے میں لیا گیا، جس سے انتخابی ریکارڈ کی سالمیت پر شکوک پیدا ہوئے۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں محض دوبارہ گنتی شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کر سکتی، لہٰذا الیکشن ایکٹ 2017 کی متعلقہ دفعات کے تحت 39 پولنگ اسٹیشنز پر ازسرنو پولنگ ہی واحد مو¿ثر اور آئینی حل ہے۔واضح رہے کہ آئینی عدالت نے29 جنوری 2026 کو اپنے حکم میں ہائی کورٹ اور کمیشن کے سابقہ احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں 39 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کی درخواستوں کا ازسرنو فیصلہ کرےاس دوران کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں