صوبے میں نئے ڈویژنز کا قیام اور اضلاع کو یکجا کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، پشتونخوا میپ

کوئٹہ ( آئی این پی ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں حکومت کے نئے ڈویژنز کی تاریخی جغرافیائی حقائق کے برخلاف اس میں اضلاع کو یکجا کرنے کے فیصلے کو کھلی طو رپر مسترد کرتی ہے اور اسے فور ی طو رپر واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتون بلوچ صوبہ 1970میں مارشلائی آرڈیننس کے ذریعے غیر فطری طو رپر قلات سٹیٹ یونین اور پشتون اکثریت برٹش بلوچستان کو حقوق کے تعین کے بغیر یکجا کیا گیا تھا۔ اور اس سنگین سیاسی غلطی کا خمیازہ آج تک صوبے کے پشتون یکطرفہ طور پر بھگت رہے ہیں۔ اور صوبے میں پشتون بلوچ برابری مکمل ناپید ہوتی جارہی ہے اور صوبے کا پشتون آبادی مسلسل دوہرے جبر کا شکار ہوتا چلا آیا ہے اور اس طرح صوبے میں مسلسل پشتونوں کے سیاسی معاشی جمہوری اور انسانی حقوق سلب ہوتے رہے ہیں اور یکطرفہ طور پر اضلاع اورڈویژنز کی تشکیل اور سیاسی اقتدار کے بلبوتے پر پشتون آبادی کو کم اوربلوچ آبادی میں مسلسل بے تحاشا اضافہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ اور 2023کی مردم شمار ی کی اس کی کھلی مظہر ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تاریخی جغرافیائی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے ڈویژنز میں تاریخی قومی معاشرتی اقدار کے برخلاف غیر منصفانہ طور پر اضلاع کو یکجا کرنے کا عمل تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف گردانتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں پشتون قوم کی رضاومنشاءکے برخلاف ڈویژنز اور اس میں تاریخی جغرافیائی لسانی اور معاشرتی اقدار کے برخلاف اضلاع کو یکجا کرنے کے ناروا فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور حکومت کے حقائق کے برخلاف فیصلوں پر پارٹی عدالتی وقانونی چارہ جوئی اور اپنے عوام کی تائید وحمایت سے پر امن سیاسی جمہوری جدوجہد کی راہ اپنانے سے نہیں ہچکچائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں