تفتان کے عوام سیندک منصوبے کے ثمرات سے محروم ہیں، لیاقت عیسیٰ زئی

ویب ڈیسک: تفتان کے قبائلی و سماجی رہنما میر لیاقت عیسیٰ زئی نے کہا ہے کہ تفتان کے قریب واقع سیندک مائننگ منصوبہ گزشتہ دو دہائیوں سے سونا اور تانبا پیدا کر رہا ہے، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اس منصوبے کے ثمرات آج تک مقامی آبادی تک مو¿ثر انداز میں نہیں پہنچ سکے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سیندک منصوبے سے سال 2002 سے معدنیات کی پیداوار جاری ہے اور اس سے ہر سال اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ منصوبے کے تحت مختص کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) فنڈز اور دیگر ترقیاتی وسائل کن منصوبوں پر اور کس حد تک خرچ کیے جا رہے ہیں۔میر لیاقت عیسیٰ زئی نے کہا کہ چند محدود ملازمتوں کے علاوہ مقامی لوگوں کو اس منصوبے سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ملا۔ تفتان اور گردونواح کے بیشتر علاقے آج بھی صحت، تعلیم، صاف پینے کے پانی، معیاری سڑکوں، بجلی، نکاسی آب، ہنر مندی کی تربیت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے مقامی آبادی خود کو اپنے ہی علاقے کے قدرتی وسائل کے فوائد سے محروم محسوس کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کان کنی کرنے والی بڑی کمپنیاں مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کو اپنی سماجی ذمہ داری کا اہم حصہ سمجھتی ہیں۔ ایسے منصوبوں کے تحت مقامی نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار فراہم کیا جاتا ہے، فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز قائم کیے جاتے ہیں، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر و بہتری، صاف پانی کی فراہمی، سڑکوں اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر، خواتین کی فلاح، ماحولیات کے تحفظ، مقامی کاروبار کی حوصلہ افزائی اور طلبہ کے لیے وظائف جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ مقامی کمیونٹی بھی ترقی کے عمل میں شریک ہو سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیندک منصوبے کی آمدنی میں مقامی آبادی کا جائز حق یقینی بنایا جائے، CSR فنڈز کی سالانہ تفصیلات اور اخراجات کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے، مقامی نمائندوں پر مشتمل نگرانی کا مو¿ثر نظام تشکیل دیا جائے، مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کا واضح کوٹہ مقرر کیا جائے، اور تفتان و گردونواح میں صحت، تعلیم، پانی، بجلی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اور دیرپا اقدامات کیے جائیں تاکہ علاقے کے لوگ بھی اپنے قدرتی وسائل سے حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مقامی آبادی کی ترقی اور خوشحالی نہ صرف سماجی انصاف کا تقاضا ہے بلکہ اس سے منصوبے اور مقامی کمیونٹی کے درمیان اعتماد، تعاون اور پائیدار ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں