کیرتھر کینال میں پانی کی قلت کیخلاف بلوچستان و سندھ کے آبادگاروں کا سکھر بیراج پر دھرنا، منصفانہ تقسیم کا مطالبہ
گنداخہ (یو این اے) سندھ اور بلوچستان کے آبادگاروں کی مشترکہ تنظیم ہاری آبادگار اتحاد سندھ و بلوچستان کی جانب سے کیرتھر کینال میں بلوچستان کے حصے کا پانی فراہم نہ کیے جانے کے خلاف سکھر بیراج پر دیا گیا احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری۔ دھرنے میں سندھ اور بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کسانوں، آبادگاروں، قبائلی عمائدین اور سماجی شخصیات نے شرکت کی اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر دھرنے کے شرکا میر حسن خان شہلیانی، میر خالد خان جمالی، محسن قاضی، میر خان جمالی، حاجی غلام مصطفی رند، حاجی صوبا خان رند اور دیگر رہنماﺅں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیرتھر کینال میں پانی کی مسلسل قلت نے بلوچستان کے ٹیل کے علاقوں کو شدید زرعی بحران سے دوچار کردیا ہے۔ پانی کی عدم فراہمی کے باعث ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں سوکھ رہی ہیں، کاشتکاروں کی معاشی حالت ابتر ہوچکی ہے اور مویشیوں کے لیے بھی پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ رہنماﺅں نے کہا کہ بلوچستان کے آئینی، قانونی اور طے شدہ حصے کا پانی ہر قیمت پر حاصل کریں گے، جب تک سکھر بیراج سے بلوچستان کے حصے کا مکمل پانی کیرتھر کینال میں چھوڑنے کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ہمارا احتجاجی دھرنا جاری رہے گا اور کسی قسم کے دباﺅ میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ، حکومت بلوچستان، ارسا اور محکمہ آبپاشی کے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بلوچستان کے حصے کا پانی بحال کیا جائے اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔


