کوئٹہ شہر میں سینکڑوں ٹیوب ویلز دن رات شہریوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کررہے ہیں، واسا
کوئٹہ (آن لائن) محکمہ واسا کی جانب سے نام نہاد ٹینکر ایسوسی ایشن کے اس دعوے کو من گھڑت اور غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں واسا کے 450 اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سمیت دیگر محکموں کے 600 سے زائد ٹیوب ویل شہریوں کو پینے کا صاف پانی دن رات مہیا کررہے ہیں۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ میں واسا کے 450 سے زائد ٹیوب ویل موجود ہیں۔ اسی طرح پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیگر محکموں کے 600 سے زائد ٹیوب ویل دن رات کوئٹہ کے شہریوں کو پانی مہیا کر رہے ہیں۔شہر کے گردونواح میں قائم پرائیویٹ ٹیوب ویل، جن کی واضح اکثریت غیر قانونی ہے، کوئٹہ کے عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل گراوٹ کی بڑی وجہ یہ غیر قانونی ٹیوب ویل ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ صوبائی واٹر بورڈ نے متعدد بار ضلعی انتظامیہ کو کارروائی کی ہدایت کی ہے جو اب تک تشنہ تکمیل ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ کے ریمارکس ریکارڈ پر موجود ہیں جس میں ٹریکٹرز کو مرحلہ وار ٹینکرز میں تبدیل کرنے کا کہا گیا ہے۔ مگر غیر قانونی ٹیوب ویلوں کے مالکان ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔نا تجربہ کار اور کم عمر لڑکوں کو ڈرائیور کی سیٹ پر بٹھا کر شہر میں حادثات اور قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اکثر ٹریکٹر مالکان اور ڈرائیورز افغان مہاجرین ہیں۔ شہر میں ٹریفک کے مسائل سمیت سنگین حادثات اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے ذمہ دار ٹریکٹر مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے اور این او سی نہ رکھنے والے ٹیوب ویلوں کو فوری طور پر بند کیا جائے۔


