سکھر بیراج پر آبادگاروں کا دھرنا ختم، بلوچستان کے حصے کا زرعی پانی فراہم کیا جائیگا، سندھ حکومت کی یقین دہانی

اوستا محمد (آئی این پی) کیرتھر کینال میں بلوچستان کے حصے کا زرعی پانی فراہم کرنے کے مطالبے پر سکھر بیراج کے مقام پر ہاری آبادگار اتحاد سندھ و بلوچستان کی جانب سے تین روز سے جاری احتجاجی دھرنا سندھ حکومت محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کردیا گیا۔ احتجاجی دھرنے کی قیادت ہاری آبادگار اتحاد سندھ و بلوچستان کے رہنماﺅں میر حسن خان شہلانی، میر خالد خان جمالی، میر خان صوبدرانی اور محسن قاضی نے کی۔ مذاکرات میں محکمہ آبپاشی سندھ اور ضلعی انتظامیہ کے حکام نے آبادگاروں کے مطالبات پر تفصیلی غور کیا اور کیرتھر کینال میں بلوچستان کے حصے کے مطابق پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد رہنماﺅں نے باہمی مشاورت سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے موقع پر ہاری آبادگار اتحاد سندھ کے رہنما محسن قاضی نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکھر بیراج پر تین روز تک جاری رہنے والا یہ احتجاج سندھ اور بلوچستان کے آبادگاروں کے اتحاد یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کی کامیاب مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے زمینداروں خصوصاً میر حسن خان شہلانی میر خالد خان جمالی میر خان صوبدرانی اور دیگر ساتھیوں نے جس ثابت قدمی نظم و ضبط اور عزم کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہی کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں سندھ حکومت اور محکمہ آبپاشی مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوئے۔ محسن قاضی نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوتے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے بابرلو بائی پاس پر غیر معینہ مدت کا دھرنا دیا جاتا تاہم حکومت سندھ کی جانب سے مطالبات تسلیم کرنے اور پانی کی فراہمی سے متعلق مثبت یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے سندھ اور بلوچستان کے تمام کسانوں آبادگاروں اور زمینداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی اجتماعی اتحاد اور پُرامن جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت سندھ اور محکمہ آبپاشی اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے تاکہ بلوچستان کے کسانوں کو ان کے حصے کا زرعی پانی بروقت مل سکے اور جاری زرعی بحران کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں