حکومت کی جانب سے راشن دینے کا فارمولہ قبول نہیں، ثناء بلوچ

خاران:بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے کہاہے کہ کروناوائرس کے باعث بلوچستان سمیت خاران میں لاک ڈوان سے ہزاروں مزدور و محنت کش افراد گھروں میں محصور ہو کر روزگار سے محروم دو وقت کے روٹی کے محتاج بنکر رہ گئے ہیں ثنا بلوچ نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے لاک ڈاون کی دوران خاران کو فراہم کردہ راشن آٹے میں نمک کے برابر صوبائی حکومت کی جانب سے بونڈامذاق ہے جن سے بطور نمائندہ خاران لاتعلق ہو مزدور و محنت کش افراد کی تعداد زیادہ مگر راشن کم دینے کا فارمولہ قطعی قبول نہیں ان خیالات کا اظہار بلوچ ہاوس خاران میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کی ثنا بلوچ نے کہا کہ صوبائی حکومت کا متاثرہ افراد کو راشن سمیت ایمرجنسی کے حالات میں کوئی جامع پالیسی نہیں انھوں نے کہا کہ خاران میں سیکنڑوں کی تعداد میں لاک ڈاون کے دوران روزگار اور محنت مزدوری شدید متاثر ہوئی ہے اور دوکاندار/مزدور/زمیندار/ شامل ہیں جبکہ مزدور طبقہ کے امداد کے لیئے صوبائی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے راشن خاران کے ساتھ کھلم کھلا مذاق ہے جو بطور ایم پی اے خاران کسی صورت قبول نہیں صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر بلوچستان کے تمام اضلاع سمیت خاران میں لاک ڈوان سے متاثرہ افراد کو راشن کی فراہمی کے لیئے ہزاروں کی تعداد میں روزمرہ کے لیئے استعمال ہونے والے اشیا خورد نوش و دیگر ضروری اشیا دے تاکہ غریب مزدور و حقدار طبقہ خواری و عذابی کے بغیر باآسانی راشن حاصل کر سکیں جبکہ کروناوائرس پر قابو پانے کے لیئے زبانی کلامی دعووں کے بجائے عملی اقدام کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں