پٹاخے گودام کیاخطرناک بم نہیں؟

اگر پٹاخہ گوداموں کا بروقت سراغ لگا کر حفاظتی اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان کے تمام شہریوں کی زندگی کو مستقل خطرہ لا حق رہے گا۔کسی اتفاقی بد احتیاطی کی نتیجے میں یہ گودام بہت بڑی تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ہمارے ملک میں پیٹرول پمپ بھی ضروری احتیاطی اقدامات نہیں کرتے، بیشتر اوقات آگ پکڑ لیتے ہیں اور سیکنڈوں میں گردونواح میں موجود ہر شے جل کر بھسم ہوجاتی ہے ایسے ماحول میں پٹاخے کے گوداموں کی طرف کس کا دھیان جائے گا؟ لاک ڈاؤن کی وجہ سے امسال شب برأت کے موقعے پر استعمال ہونے والے بم اور دیگر سامان گوداموں سے نکل کر گلی کوچوں تک نہیں پہنچ سکا اس لئے گوداموں میں ان کا بھاری ذخیرہ موجود ہے۔کراچی پولیس کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ اس کاروبار سے وابستہ افراد مہینوں پہلے پٹاخے، پھلجھڑیاں اور دیگر سامان چین سے درآمد کر لیتے ہیں۔ اور شب برأت کی شام سے ایک دن پہلے اور بعد تک خریدار اسے استعمال کرتے ہیں مگر حالیہ شب برأت ملک میں لاک ڈاؤن کے باعث خریدار اور دکاندار گھروں میں کورونا کی وجہ سے بند رہے، لہٰذا متعلقہ ادارے پٹاخہ گوداموں کے مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں جتنی جلدی ممکن ہو ان کے مالکان تک پہنچیں انہیں اس امر کا پابند کریں کہ پیشگی حفاظتی اقدامات کر لئے جائیں۔ماضی میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں کوشش کی جائے کہ آئندہ ماضی کی روایت نہ دہرائی جا ئے۔ایسا کرنا ممکن ہے جو کام جانی اور مالی نقصان کے بعد کیا جاتا ہے اسے حادثہ رونما ہونے سے پہلے ہی کر لینا مناسب اور دانشمندی کا تقاضہ ہے۔ جیسے گولیمار میں چھوٹے سے پلاٹ پر کئی منزلہ عمارت کی تعمیر میں غفلت برتی گئی اور اس کے گرنے کے آثار نمودار ہونے کے بعد بھی آنکھیں بند رکھی گئیں، اس کے نتیجے میں 27 قیمتی جانیں موت کے منہ میں چلی گئیں۔لیکن اس کے بعد متعلقہ ادارے چوکنّا ہو گئے اور گرتی ہوئی عمارتوں کے مکینوں کو بروقت نکال لیا گیا۔یہی حکمت عملی پٹاخہ گوداموں کے لئے بھی اختیار کی جائے، کوئی حادثہ رونما ہونے سے پہلے ہی ضروری اقدامات کر لئے جائیں۔ اس کے علاوہ اگر قانون سازی کی ضرورت ہو تو قانون ساز ادارے اس حوالے سے مطلوب قانون سازی کریں تاکہ پٹاخے درآمد کرنے والا تاجر اس امر کا پابند ہو کہ وہ متعلقہ تھانے اور فائر اسٹیشن کو آگاہ کرے کہ اس نے درآمد کردہ آتشی سامان کس عمارت میں محفوظ کیا ہے؟ علاوہ ازیں پہلے سے موجود قوانین کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ان سنگین جرائم کی سزائیں اور جرمانے کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد نہایت معمولی اور نہ ہونے کے برابروالی سطح پر جا پہنچے ہیں بے وقعت ہو چکے ہیں انہیں معقول سطح پر لایا جائے۔کوروناوائرس نے اراکین پارلیمنٹ کو فرصت فراہم کر دی ہے انہیں چاہیے قانون سازی کی ذمہ داری نبھانے کی فکر کریں، آج کل کورونا کی وجہ سے لوگ سماجی دوری پر ہیں، ان کے گرد جمگھٹا نہیں لگا رہے لہٰذا اس فرصت کو غنیمت جانیں اور قانون سازی کی طرف توجہ دیں۔پی ٹی آئی نے اپوزیشن کو امدادی سرگرمیوں کے بوجھ سے کافی حد تک فارغ کر دیا ہے۔بیشتر کام آن لائن ہو رہا ہے تھوڑا بہت سقم ہوگاسامنے آنے پر اصلاح کردی جائے گی۔وفاقی حکومت کی خواہش ہے کہ امدادی رقم کی ضرورت مندا فراد تک ترسیل کے عمل میں ممکنہ حد تک انسانی پسندو پسند کا عمل دخل نہ رہے تمام مراحل کمپیوٹر خود طے کرے۔اوراسی فارمولے کے تحت ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں میں 140ارب روپے کی خطیررقم تقسیم کی جارہی ہے۔یہ تجربہ پہلی بار کیا جا رہا ہے اس لئے وصول کنندگان کے لئے بھی اجنبی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ اس عمل میں حائل مشکلات کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب اتنی بڑی تعداد میں لوگوں تک رسائی جدید ٹیکنالوجی نے ممکن بنا دی ہے توگنتی کے چند پٹاخہ درآمد کنندگان تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں صرف ذراسی دلچسپی اور سسٹم کو تھوڑا سا بہتر بناکر آسانیاں لائی جا سکتی ہیں۔اگر قومی شناختی کارڈ کا نمبر 15مختلف محکموں کو اس قابل بنا سکتا ہے کہ وہ کسی مطلوبہ نتیجے تک پہنچ سکیں تو ایک تھانے کی حدود میں مقیم پٹاخہ درآمدکنندگان کی معلومات جمع کرنے میں چند سیکنڈ صرف ہوں گے۔سسٹم بنانا ہوگا سسٹم کے مطابق کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کی عادت اپنانا ہوگی۔اس کے بعد سب چین سے سوئیں گے۔کسی بڑے حادثہ کا ڈر نہیں ہوگا۔چین جیسا دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اس کے باوجود کورونا وائرس پر قابو پاچکا ہے اس نے ثابت کر دیا ہے کہ قانون کی پاسداری کی جائے تو سب کچھ ممکن ہے۔قانون کی پاسداری کے لحاظ سے پاکستان کمزور ملک رہا ہے یہاں چینی کے کارخانوں کے مالکان وزیر اعظم کو دھمکی دیتے ہیں:”اگر انکوائری نہ روکی تو چینی بحران پیدا کرکے حکومت کو گھر بھیج دیں گے“۔ پٹاخے درآمد کرنے والوں کے پاس بارود ہے، وہ تو بہت کچھ کر سکتے ہیں۔پولیس افسر صحافی برادری سے نام چھپانے کی بجائے ایک محفوظ اور مربوط پروگرام کے ساتھ سامنے آئیں پٹاخہ گوداموں کی نشاندہی کریں تاکہ لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply