جامعات سے طالب علموں کی جبری گمشدگی تشویشناک ہے، ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل
اسلام آباد :بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان قمر بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں سے بلوچ طالبعلموں کی جبری گمشدگیوں میں تسلسل کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے، رواں برس جون میں خضدار سے شاہ میر بلوچ نامی ایک طالبعلم لاپتہ ہوا اور اب یکم نومبر دو مزید طالب علم جامعہ بلوچستان سے لاپتہ ہو گئے ہیں جن کا تاحال کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں، جامعات سے طالب علموں کی اس طرح جبری گمشدگی تشویشناک ہے، جامعہ بلوچستان اور حکومت کی طرف سے طالبعلموں کی شنوائی نہ ہونا اور طلبا کے مطالبات پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا انتہائی قابل مذمت فعل ہے، طلبا تنظیموں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ گمشدہ طلبا کی فوری با حفاظت بازیابی کو یقینی بنائے بصورت دیگر بلوچ طلبا اپنا احتجاج نیشنل پریس کلب اسلام آباد تک پھیلانے پر مجبور ہونگے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان قمر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں سے بلوچ طالبعلموں کی جبری گمشدگیوں میں تسلسل کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے، رواں برس جون میں خضدار سے شاہ میر بلوچ نامی ایک طالبعلم لاپتہ ہوا اور اب یکم نومبر دو مزید طالب علم جامعہ بلوچستان سے لاپتہ ہو گئے ہیں جن کا تاحال کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں، جامعات سے طالب علموں کی اس طرح جبری گمشدگی نہایت تشویشناک ہے، طالب علموں کی گمشدگی پر جامعہ بلوچستان اور طلبا تنظیموں کی جانب سے گذشتہ انیس دنوں سے جامعہ بلوچستان کو بند کر کے اس سرد ترین موسم میں احتجاج کیا جارہا ہے اور طلبا دھرنا دیئے بیٹھے ہیں مگر جامعہ بلوچستان اور حکومت کی طرف سے طالبعلموں کی شنوائی نہ کرنا اور طلبا کے مطالبات پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا انتہائی قابل مذمت فعل ہے، طلبا تنظیموں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ گمشدہ طلبا کی فوری با حفاظت بازیابی کو یقینی بنائے بصورت دیگر بلوچ طلبا اپنا احتجاج نیشنل پریس کلب اسلام آباد تک پھیلانے پر مجبور ہونگے۔


