اسماءجتک کے والد کے قتل کو نواب ثناءاللہ زہری کے ساتھ جوڑنا قابلِ مذمت ہے، پیپلز پارٹی خضدار
خضدار: پاکستان پیپلز پارٹی ضلع خضدار نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسماء جتک کے والد ماسٹر عنایت اللہ جتک کی شہادت نہایت افسوس ناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ پارٹی نے مقتول کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔بیان میں کہا گیا کہ اس افسوس ناک واقعے کو پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ خان زہری کے ساتھ جوڑنا اور بغیر کسی تحقیق یا عدالتی فیصلے کے ان پر الزامات عائد کرنا انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی ضلع خضدار کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں رکن اسمبلی ہدایت الرحمن بلوچ کی جانب سے نواب ثنائاللہ خان زہری پر بغیر تحقیقات الزامات لگانا بھی افسوس ناک ہے۔ پارٹی کا مو¿قف ہے کہ کسی بھی فرد کے خلاف فیصلہ کن رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیقات اور قانونی عمل کا انتظار کیا جانا چاہیے۔بیان میں کہا گیا کہ نواب ثنائاللہ خان زہری ایک بڑے قومی، سیاسی اور قبائلی رہنما ہیں، اس لیے ان کے خلاف بلا ثبوت الزامات لگانا نہ صرف نامناسب بلکہ سیاسی اخلاقیات کے بھی منافی ہے۔پارٹی نے مزید کہا کہ بعض عناصر اپنے سیاسی اختلافات اور ذاتی بغض کی بنیاد پر اس افسوس ناک واقعے کو جواز بنا کر نواب ثنائ اللہ خان زہری کی کردار کشی کر رہے ہیں، جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔بیان کے مطابق نواب ثناءاللہ خان زہری اس وقت عمرہ ادائیگی کے سلسلے میں مکہ مکرمہ میں ہے اور نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری ملک سے باہر ہیں، اس لیے پارٹی کے مطابق ان کے خلاف الزامات حقائق اور شواہد کی روشنی میں ہی دیکھے جانے چاہییں۔پاکستان پیپلز پارٹی ضلع خضدار نے ایک بار پھر ماسٹر عنایت اللہ جتک کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل ہمدردی اور اظہارِ تعزیت کیا ہے۔پارٹی نے حکومت اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی ہر پہلو سے شفاف تحقیقات کی جائیں، اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسماء جتک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے چند گھنٹوں بعد ان کے والد کے قتل نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔کہیں یہ واقعہ کوئی بڑی گہری سازش تو نہیں ہے پارٹی کا کہنا ہے کہ ان سوالات کے جوابات قیاس آرائیوں کے بجائے صرف شفاف تحقیقات سے ہی سامنے آ سکتے ہیں۔آخر میں پاکستان پیپلز پارٹی ضلع خضدار نے کہا کہ بعض ممبران اسمبلی کو تحقیقاتی اداروں یا عدالتوں کا کردار ادا کرنے کے بجائے معاملہ قانون کے مطابق آگے بڑھنے دینا چاہیے، کیونکہ انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف فیصلہ ثبوت، تحقیقات اور عدالتی عمل کی بنیاد پر ہی کیا جائے۔


