شہید فدا بلوچ کے نظریہ اور قومی تشخص کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ بی ایس او

شہید فدا احمد بلوچ کی 32 برسی کے موقع پر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے لاک ڈاؤن اور کرونا کے پیش نظر آن لائن ویڈیو لنک پر شہید فدا بلوچ کے تصویر کے زیر صدارت تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جس میں مہمان خاص بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ اور اعزازی مہمان خاص بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما و ممبر صوبائی اسمبلی واجہ ثناء بلوچ اور بی ایس او کے سابقہ چیئرمین و بی این پی کے مرکزی لیبر سیکرٹری چیئرمین منظور بلوچ تھے۔ ریفرنس میں بی ایس او کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری شوکت بلوچ بی این پی کے سی سی ممبر میڈم شمائلہ اسماعیل بلوچ، بی ایس او کے سی سی ممبر جہانگیر منظور بلوچ نوجوان سیاسی و سماجی رہنما میر سراج لہڑی، بی ایس او کراچی زون کے صدر عبداللہ میر، یاسر بلوچ بی ایس او کوئٹہ زون کے سینیئر ممبران ڈاکٹر عاطف بلوچ، مقبول بلوچ، عاطف رودینی بلوچ، اسرار بلوچ شکور بلوچ، عامر رودینی بلوچ،نزیر مینگل لالا رحمت بنگلزئی اور دیگر سینئر ممبران شامل رہے۔
اجلاس میں شہید فدا بلوچ کی قومی جدوجھد اور فلسفہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہید فدا کا مقصد کارکنوں اور بلوچ قوم کو علم و زانت اور فکر سے مسلح کرنا تھا نظریاتی نشستوں، اسٹڈی سرکل اور تربیتی سرکلرز سے اپنے کارکنوں کو اخلاق کے اعلیٰ معیار تک پہنچایا۔ شہید فدا نے قوم کو مشترکہ نکات پر یکجا کرنے، نظریاتی وجود کو آگے بڑھانے، علمی بحث مباحثہ کی رائے کی اہمیت کو اجاگر کرنے، سائنسی اور ترقی پسندانہ سیاست کیلئے جدوجھد کرتے ہوئے "اتحاد، جدوجھد آخری فتح تک” کے نعرے کے ساتھ جام شہادت نوش کرتے ہوئے بلوچ قوم کے دلوں اور تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ ہو گئے جنہیں تاریخ میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا انہوں نے مزید کہا شہید فدا کے برسی کے موقع پر فکر فدا کو زندہ رکھنے کیلئے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے تمام بلوچ ترقی پسند تنظیمیں اور بی ایس او کے دھڑوں کو اتحاد کی طرف بڑھ کر شہید فدا کے فلسفہ کو زندہ رکھنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں