حکومت نے برطانیہ حکومت کو خط لکھ دیا

حکومت پاکستان نے سابق وزیراعظم اور سزا یافتہ مجرم نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کے لئے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے یہ خط حکومت پنجاب کی سفار ش پر وزارت خارجہ کے ذریعہ لکھا گیا ہے خط میں نواز شریف کے معاملہ پر برطانوی حکومت کو تمام پہلوؤں سے آگاہ کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم سزا یافتہ مجرم ہیں ضمانت پر علاج کی غرض سے پاکستان آئے تاہم ضمانت کی مدت گزرجانے کے باوجود ضروری میڈیکل رپورٹس نہیں بجھواسکے کی عدالتی ضمانت کی مدت ختم ہوچکی ہے لہذا انہیں وطن واپس بجھوایا جائے۔اپوزیشن جماعتوں خاص طورسے مسلم لیگ ن کی جانب سے حکومتی فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے بلکہ مسلم لیگ ن نے اس کو چیلنج کررہی ہے کہ حکومت نواز شریف کو واپس نہیں لاسکتی مسلم لیگ ن کے رہنماء رانا ثناء اللہ کا اس معاملہ پر حکومت کو چیلنج کرنے والا بیان حیرت انگیز ہے۔بجائے اس کے کہ وہ صورتحال پر خفت کااظہار کرتے اور معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جاتی کرپشن کے بادشاہ ریاست کو آنکھیں دکھا رہے ہیں پاکستان کے عوام شریف خاندان کی کرپشن اور قومی دولت کا لوٹ مار سے بخوبی آگاہ ہیں جہاں تک سابق وزیراعظم نواز شریف کا تعلق ہے وہ ایک کیس میں سزا یافتہ ہیں اور ملک میں اپنی سزا کاٹ رہے تھے لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیاسی عدم بلوغت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے قید سے فرار کو تمام معاملات پر ترجیح دی۔یہاں صحت کی فراہمی کا ایک منطق پیدا کیا گیا۔عدالت نے انہیں 8 ہفتے ملک کے اندر علاج کے لئے دیئے لیکن پتہ چلا کہ اس دوران انہوں نے کوئی علاج نہیں کروایا ایک بار پلیٹ لیٹس کی کمی کا شور اٹھا یا گیا۔اور مہم چلائی گئی کہ نواز شریف کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں علاج کے لئے ان کا بیرون ملک جانا ضروری ہے افسوس کہ شریف خاندان ایک بار پھر نہ صرف حکومت تمام اداروں اور پورے معاشرے کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوا اور انہیں علاج کے لئے ضمانت پر لندن جانے کی اجازت دیدی گئی۔لندن پہنچنے کے بعد ایک بار پھر نواز شریف کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے بلکہ ویڈیوز اور تصاویر میں وہ لندن کے پرآسائش ہوٹلوں میں کھاتے پیتے گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں لندن کے ڈاکٹرز سے وہ کوئی ضرورت کے مطابق رپورٹ حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ریاست کے رٹ اور سیاسی سنجیدگی کا تقاضا ہے کہ نواز شریف جلد از جلد وطن واپس آکر قانون کا سامنا کریں۔

حکومت نے برطانیہ حکومت کو خط لکھ دیا” ایک تبصرہ

  1. اگر نواز شریف کے پلیٹ لٹ واقعی کم نہیں تھے اور ان کی زندگی کو خطرہ نہیں تھا تو یہ ایک معاہدہ تھا وہ معاہدہ کے تحت گئے ہیں معاہدہ کے مطابق آئیں گے صحت ایک بہانہ تھا اور یہ خط بھی ڈرامہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں