شام،80 لاکھ شہریوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے، اقوام متحدہ


دمشق:اقوام ِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں کورونا وائرس کے کیسسز سامنے آئے ہیں، ملک بھر میں 80 لاکھ افراد خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ادلیب میں گھر بار کو ترک کرنے پر مجبور ہونے والے دس لاکھ شامی شہریوں کو انسانی امداد ترکی کی جانب سے پہنچائی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کی کی ذیلی تنظیموں میں سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی سینئر ترجمان الزبتھ بائرز نے اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر میں ویڈیو کانفرس کے ذریعے پریس بریفنگ دی۔خاصکر ادلیب میں انسانی المیہ پر توجہ مبذول کرانے والی بائرز نے متنبہہ کیا ہے کہ دسمبر 2019 سے ابتک شام کے شمال مغربی علاقوں سے تقریبا 9 لاکھ 40 ہزار افراد کو گھر بدر کیا گیا۔ اب یہ لوگ کورونا کے تباہ کن نتائج پیدا ہوسکنے والے انتہائی پر ہجوم کیمپوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وبا پھوٹنے کے باوجود علاقے میں اسے کنٹرول میں لینے کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔شام بھر میں تقریبا 80 لاکھ شہریوں کو خوراک کی قلت کا سامنے ہونے کا ذکر کرنے والی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ احتیاج مندوں تک امدادی سامان کی ترسیل کے لیے ہر ممکنہ کوششیں صرف کر رہا ہے۔اقوام متحدہ نے اس سے قبل شامی شہر ادلیب کو 45 ٹریلروں پر مشتمل انسانی امدادی روانہ کی تھی۔