دالبندین، پاک ایران سرحدی حکام کی ملاقات، غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کا عزم
دالبندین (انتخاب نیوز) پاکستان اور ایران کے حکام نے سرحدی امور پر باہمی تعاون بڑھانے اور سرحد پار سے ہر قسم کے غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے 25 جنوری سے سرحدی اضلاع کی عوام کے لیے 15 روزہ اجازت نامے کے تحت آنے جانے والا راستہ راہداری گیٹ کھولنے کا بھی فیصلہ کرلیا۔ اس سلسلے میں ریگولر بارڈر کمیٹی کا ایک اجلاس ایرانی سرحدی علاقے میرجاواہ میں منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر چاغی حسین جان بلوچ نے پاکستانی وفد کی قیادت کی جس میں اسسٹنٹ کمشنر تفتان بلال شبیر سمیت لیویز فورس، فرنٹیئر کور، ایف آئی اے اور پاکستان کسٹمز کے حکام بھی موجود تھے جبکہ ایرانی حکام کے وفد کی قیادت میرجاواہ کے مرزبان درجہ اول نے کی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مشترکہ اجلاس میں سرحدی امور بالخصوص تجارت اور آمد و رفت کے معاملات زیر غور آئے اس موقع پر دونوں ممالک کے حکام نے کئی امور پر ایک دوسرے کے موقف سنا اور باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں پاکستانی وفد کی درخواست پر ایرانی حکام نے 25 جنوری سے راہداری گیٹ کھولنے کا فیصلہ کیا جس سے پندرہ روزہ خصوصی سفری اجازت نامہ کے تحت سرحدی اضلاع کے لوگ سرحد کے دونوں جانب آباد اپنے رشتے داروں سے مل سکیں گے۔ خیال رہے کہ راہداری گیٹ گزشتہ تین سال سے بند تھا۔ سرکاری حکام کے مطابق اجلاس میں مشترکہ بازارچہ گیٹ کھولنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا جس پر پاکستانی حکام نے جلد عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں ممالک کے حکام نے سرحدی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور غیر قانونی نقل و حرکت کی تدارک کے لیے باہمی اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ سرحدی پلرز کے سالانہ معائنہ و مرمت اور تالاب میں اضافی تجارتی گیٹ کھولنے پر بھی غور کیا گیااجلاس میں غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کے متعلق کئی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کرکے حکمت عملی مرتب کی گئی۔


