ایل سی جاری نہ کرنے سے پاکستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر متاثر، 76لاکھ ملازمتیں داﺅ پر لگ گئیں

اسلام آباد (انتخاب نیوز) خام مال کی درآمد پر پابندیوں اور کمرشل بینکوں کی جانب سے لیٹر آف کریڈٹ جاری نہ کرنے سے پاکستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر بری طرح متاثر ،76لاکھ ملازمتیں داو پر لگ گئیں،سریا پونے تین لاکھ روپے ٹن تک پہنچ گیا،ساڑھے تین لاکھ ٹن تک پہنچنے کا خدشہ،سٹیل، لوہا، سیمنٹ، ٹائلز اور دیگر متعلقہ اشیا کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق خام مال کی درآمد پر پابندیوں اور کمرشل بینکوں کی جانب سے لیٹر آف کریڈٹ جاری نہ کرنے سے پاکستان کے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر بری طرح متاثر ہوئے ہیںاورسٹیل، لوہا، سیمنٹ، ٹائلز اور دیگر متعلقہ اشیا کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عوام کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ خام مال کی قلت نے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹرز کو کام بند کرنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور پیداواری لاگت میں اضافے سے تقریبا تمام صنعتوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ ملک میں زیادہ تر صنعتیں درآمد شدہ خام مال پر انحصار کرتی ہیں اور پابندیوں نے اسٹیل کی صنعت کے لیے خام مال کی قلت پیدا کردی ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرزکے سیکریٹری جنرل واجد بخاری نے ویلتھ پاک کو بتایا کہ اسٹیل انڈسٹری کے لیے خام مال کی قلت ہے جس سے مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کمرشل بینکوں کو اس شعبے کے لیے ایل سی کھولنے کی ہدایت نہیں کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں اسٹیل کے متعدد کاروبار بند ہو گئے ہیں۔ سٹیل کی صنعت قومی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ بہت سی دیگر مینوفیکچرنگ صنعتوں کی بھی مدد کرتا ہے اور ہزاروں کارکنوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اسٹیل اور لوہے کی پیداوار بھی ملک کی تعمیراتی صنعت کی بنیادی ضرورت ہے۔ لوہے اور فولاد کی کمی نے تقریبا 7.6 ملین ملازمتیں دا وپر لگا دی ہیں۔ ملک میں اسٹیل مینوفیکچرنگ یونٹس کی بندش سے کئی دیگر وابستہ صنعتیں بھی بند ہوسکتی ہیں۔ میڈیا بریفنگ کے دوران واجد بخاری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اسٹیل سیکٹر کو درپیش مسائل کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ ترجیحی بنیادوں پر ایل سی کے اجرا کے ساتھ اس شعبے کے لیے خام مال کی درآمد کی اجازت دی جانی چاہیے۔ رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کا شعبہ اب صرف مکانات اور پلاٹوں کی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ یہ وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے۔ بڑے پیمانے پر کمرشل عمارتوں، ہوٹلوں، سڑکوں، پلوں، سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر جاری ہے۔ ملک میں خام مال کی قلت کی وجہ سے لوہے اور سٹیل کی مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ سٹیل کے شعبے میں کچھ سٹیل مینوفیکچررز کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ انہیں بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز کے لیے ڈیمریج ادا کرنا پڑتا ہے۔ سٹیل کی پیداوار میں کمی تعمیراتی صنعت اور دیگر متعلقہ شعبے بشمول سیمنٹ، شیشہ، ٹف ٹائلز، پی وی سی، سٹیل کے مینوفیکچررز کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔ اسٹیل انڈسٹری کے لیے درآمدی سکریپ کی عدم دستیابی کی وجہ سے، اسٹیل بارز کی قیمتیں 275,000 روپے فی ٹن تک پہنچ گئی ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر اسٹیل سیکٹر کے لیے خام مال کی درآمد پر پابندیوں میں نرمی نہ کی گئی تو آنے والے ہفتوں میں قیمتیں 350,000 روپے فی ٹن تک پہنچ سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں