ٹیکسوں کا تعین تاجروں کی کاروباری استطاعت کے مطابق کیا جائے، کاشف حیدری
کوئٹہ کراچی ( آئی اےن پی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے ممبر سینٹرل کمیٹی اور مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس پالیسی مرتب کرتے وقت تاجروں کی حقیقی آمدن، کاروباری حجم، اخراجات اور مالی استطاعت کو بنیادی اہمیت دے۔ چھوٹے دکانداروں اور محدود سرمایہ رکھنے والے تاجروں کے لیے منصفانہ، شفاف اور آسان ٹیکس نظام متعارف کرایا جائے تاکہ وہ اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کے ساتھ قومی معیشت میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد اور ٹنڈو الہیار میں تاجر رہنماو¿ں سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جمشید علی ایمن، محمد مہدی اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری پہلے ہی مہنگائی، عوام کی قوتِ خرید میں کمی، بجلی و گیس کے بھاری بلوں، دکانوں کے کرایوں، ملازمین کی تنخواہوں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور دیگر کاروباری واجبات جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں ٹیکسوں کے تعین کے دوران تاجروں کی حقیقی مالی حیثیت اور کاروباری مشکلات کو نظرانداز کرنا چھوٹے کاروباروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ کاروبار کا مجموعی حجم اور حقیقی منافع دو مختلف چیزیں ہیں، کیونکہ تاجر کو سامان کی خریداری، دکان کے کرایے، بجلی کے بلوں، ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر ضروری اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ لہٰذا ٹیکس پالیسی مرتب کرتے وقت ان اخراجات اور حقیقی منافع کو مدنظر رکھا جائے اور چھوٹے تاجروں پر ان کی استطاعت سے زیادہ مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی خصوصی ٹیکس اسکیم کے حوالے سے یہ امر قابلِ غور ہے کہ اگر کسی اسکیم کا مقصد چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا ہے تو اس کے قواعد بھی ان کی حقیقی کاروباری استطاعت کے مطابق ہونے چاہئیں۔ کاروباری ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس کے ساتھ سالانہ کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس کی شرط بھی کم آمدن اور محدود منافع پر کاروبار کرنے والے چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑا مالی بوجھ بن سکتی ہے۔ حکومت اس شرط پر نظرثانی کرے اور ٹیکس کی ادائیگی کے لیے ایسا طریقہ کار وضع کرے جس میں کاروبار کے حجم کے ساتھ حقیقی منافع اور دکاندار کی مالی حیثیت کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک دکاندار کی مجموعی فروخت کو اس کی خالص آمدن تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ سامان کی خریداری اور دیگر کاروباری اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں کم منافع کمانے والے دکاندار کے لیے مقررہ کم از کم ٹیکس ادا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حکومت چھوٹے تاجروں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس اسکیم کو مزید قابلِ عمل بنائے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے ساتھ چھوٹے کاروباروں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے چھوٹے دکانداروں کے لیے متعارف کرائی گئی خصوصی ٹیکس اسکیم کے نفاذ اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آسان، شفاف اور قابلِ فہم بنایا جائے۔ رجسٹریشن میں پیش آنے والی تکنیکی مشکلات دور کی جائیں، ٹیکس کے قواعد واضح کیے جائیں اور تاجروں کو ضروری رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ ٹیکس نظام میں شمولیت ان کے لیے غیر ضروری پیچیدگی کا باعث نہ بنے۔ ترجمان نے کہا کہ بجلی و گیس کے بلوں میں شامل مختلف ٹیکسوں اور سرچارجز کا جائزہ لے کر کاروباری صارفین کو مناسب ریلیف فراہم کیا جائے۔ توانائی کے بڑھتے اخراجات اور دیگر کاروباری لاگت کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور عوام کی قوتِ خرید پر بھی پڑتا ہے، اس لیے حکومت کاروباری اخراجات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں، سرکاری فیسوں اور دیگر واجبات کے مجموعی بوجھ کا جائزہ لے کر غیر ضروری پیچیدگیاں ختم کی جائیں۔ چھوٹے دکانداروں اور بڑے کاروباری اداروں کے کاروباری حجم، منافع اور مالی استطاعت میں فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ کاروباری طبقے کے لیے منصفانہ مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ کاشف حیدری نے حکومت پر زور دیا کہ نئی ٹیکس پالیسیوں اور کاروباری ضوابط کے نفاذ سے قبل تاجر تنظیموں کے نمائندوں سے بامعنی مشاورت کی جائے اور ان کی تجاویز کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے۔ بلوچستان کی مارکیٹوں اور مقامی کاروباری حالات کو بھی پالیسی مرتب کرتے وقت اہمیت دی جائے تاکہ ٹیکس نظام قومی آمدن میں اضافے کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل اور چھوٹے تاجروں کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ تاجر ملکی معیشت، روزگار کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے حکومت ٹیکس وصولی کے اہداف کے ساتھ تاجر برادری کے حقیقی مسائل کے حل پر بھی توجہ دے اور ایسا متوازن نظام تشکیل دے جس میں قومی معیشت اور کاروباری طبقے کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


