بلوچستان میں سرداری نظام ختم کیا جائے، مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی متوقع قرارداد سیکریٹری صوبائی اسمبلی کو پیش

کوئٹہ(این این آئی) امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے قائد حق دو تحریک بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے سیکریٹری صوبائی اسمبلی بلوچستان طاہر شاہ کاکڑ سے ملاقات کی اور صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے سرداری نظام کے خاتمے اور تمام شہریوں کو آئین و قانون کے تابع بنانے سے متعلق ایک قرارداد تحریری طور پر جمع کرائی۔مجوزہ قرارداد میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں بعض نام نہاد سردار اور نواب اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے ان پر ظلم و جبر کر رہے ہیں۔ قرارداد میں خضدار کی اسماء جتک اور قلات کی لائبہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو اس سلسلے میں بطور مثال پیش کرتے ہوئے سرداری نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا جائے گا کہ بلوچستان میں سرداری کا لقب اور سرداری نظام ختم کیا جائے اور ہر شہری کو آئین و قانون کا پابند بنایا جائے، کیونکہ آئین کے مطابق تمام شہری برابر ہیں اور کسی کو دوسرے پر قانونی فوقیت حاصل نہیں۔مجوزہ قرارداد میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ سرداروں کی سرکاری سرپرستی بند کی جائے اور ظلم و زیادتی کرنے والے ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی اور شہریوں کے مساوی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔سیکرٹری صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ نے قرارداد کو جلد صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ توقع ہے کہ یہ قرارداد آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں