مقتولین کے ورثا کی جانب سے مقدمہ درج ہونے پر ملزمان کیخلاف کارروائی کی جائیگی، ایس پی بارکھان
کوئٹہ :سپرنٹنڈنٹ پولیس آف بارکھان کا کہنا ہے کہ بارکھان کے علاقے سوئمن کے کنویں سے بوری بند ملنے والی تینوں نعشوں کی شناخت مسمی خان محمد کی زوجہ اور اس کے 2 بیٹوں کے نام سے کی گئی ہے۔ مقتولین کے ورثاکی جانب سے مقدمہ درج ہونے پر ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی پولیس ہر پہلو سے واقعہ کی نسبت تشویش کررہی ہے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ شب 8 بجے پولیس تھانہ بارکھان کے ایس ایچ او کو اطلاع ملی کہ سوئمن کے علاقے میں بارکھان سے 7 کلو میٹر دور ایک کنویں میں 3 بوری بند نعشیں پڑی ہیں۔ ایس ڈی پی او رکھنی اور ایس ایچ او نے موقع پر پہنچ کر نعشوں کو کنویں سے نکالا ان میں ایک خاتون اور 2 مرد بوریوں میں بند پائے گئے نعشیں ہسپتال منتقل کی گئیں جن کی عبدالقیوم مری نے شناخت کرتے ہوئے بتایا کہ زوجہ خان محمد مری مسما گراں ناز ، بیٹا محمد نواز اور بیٹا عبدالقادر کے نام سے کی گئیں۔ نعشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاکے حوالے کردی گئیں۔ 16 نومبر 2022کو بارکھان پولیس نے ایس ڈی پی او اور ڈی ایس پی ایچ او اور اے ٹی ایف کے ہمراہ پولیس پارٹی کے ساتھ سردار عبدالرحمان کھیتران کی رہائش گاہ واقع حاجی کوٹ پر چھاپہ مارالیکن وہاں پر کوئی بھی فرد مقید نہیں پایا گیا 18 جنوری 2023کو خان محمد مری سکنہ دکی نے حکام بالا کو درخواست دی کہ میری بیوی اور بچے سردار عبدالرحمان کھیتران کے نجی جیل میں قید ہیں جن کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہورہی ہے انہیں بازیاب کرایا جائے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارکھان کی ہدایت پر پولیس نے مذکورہ اہل خانہ کو بازیاب کرانے کے لئے عملی اقدامات کئے اور خفیہ طریقے سے بھی مغویان کے بارے میں معلوم حاصل کی لیکن ٹھوس شواہد نہ ملے اور گزشتہ شب نعشیں ملیںجن کی تحقیقات کی جارہی ہے۔


