زرعی فیڈروں پر بجلی بحال نہ ہوئی تو حالات کی ذمے دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہوں گی، زمیندار ایکشن کمیٹی
کوئٹہ : زمیندار ایکشن کمیٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو 24گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہاہے کہ اگر تمام زرعی فیڈرز پر بجلی بحال نہ کی گئی تو زمینداران 2001 کے شہدا کی طرز پر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں وفاقی وزرا خرم دستگیر اور خواجہ آصف بلوچستان کے فصلات کو راکھ کی ڈھیر میں تبدیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں،سال 2022 میں سیلاب نے فصلات تباہ کردئیے جبکہ امسال بجلی کی لوڈشیڈنگ سے پانی کی پیدا ہونے والی قلت اور کھاد کی عدم فراہمی سے زمینداروں کے فصلات وباغات تباہ ہوجائیں گے اور بڑے پیمانے پرغذائی قلت کاخدشہ ہوگاوفاق زمینداروں کے نقصانات کے ازالے کی بجائے فصلات کی تباہی کیلئے بضد ہیں ۔ان خیالات کااظہار زمیندارایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک نصیر احمدشاہوانی ،جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی ،حاجی عبد الجبار کاکڑ، کاظم خان اچکزئی، سید عبد القہار آغا، ملک رمضان مہتر زئی، حاجی شیر علی مشوانی ،حاجی افضل دشت، عبید اللہ پانیزئی، خالق داد، عبید اللہ جان میر زئی، عبدالمجید مشوانی،حاجی حیات کھڈ کوچہ، عزیز مغل قلات، منیر شاہوانی، حاجی یعقوب،دوست محمد کٹکے زئی، مبارک علی بادینی، ملک منظور، حاجی نبی بخش کرد، حاجی روز الدین کاکڑ، صدیق اللہ آغا ودیگر نے اپنے بیان میں کیا۔ زمینداروں نے کہاکہ ایک طرف سال 2022 میں بلوچستان کی فصلات سیلاب کی نظر ہوگئی اورصوبائی حکومت نے گندم کی بیج دی جبکہ زمینداروں کے ساتھ وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیںکی گئی ہے ،گندم بیج میں وفاقی حکومت کی جانب سے جواعلان کیاگیا اس میں ناکام ہوگئی،بلوچستان بھر میں زرعی فیڈرز پر صرف 2گھنٹے بجلی فراہم کی جارہی ہے جو صرف آبنوشی کیلئے ہے بلوچستان میں اس وقت گندم کی فصل کیلئے کھاد اور پانی کی سخت ضرورت ہے لیکن فقدان کی وجہ سے فصلات راکھ کی ڈھیر میں تبدیل ہورہے ہیں ،باغات میں درختوں نے جو پھول آنے کے بعد پانی کی قلت کی وجہ سے پھول مرجا کر گر کر خاک میں مل گئے ہیں،آئندہ بلوچستان میں سیب،انارسمیت دیگر کو بڑے پیمانے پر نقصانات کااندیشہ ہے ۔صورتحال سے بچاﺅ کیلئے زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک نصیراحمدشاہوانی کی زیر صدارت پارلیمانی وفد نے اسلام آباد میں وفاقی وزرا انجینئر خرم دستگیر ،خواجہ آصف سے ملاقات کی تھی لیکن وفاقی وزرا کی جانب سے انتہائی غیر مناسب رویہ اور بلوچستان کے زمینداروں کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کیاگیا جو قابل مذمت ہے اور چیف ایگزیکٹو کیسکو کو حکم دیاکہ وہ بلوچستان کو صرف2گھنٹے بجلی فراہم کرے تاکہ تمام فصلات وباغات راکھ کی ڈھیر میں تبدیل ہوجائیں ۔ایک طرف بلوچستان کے لوگ غذائی قلت کے شکار ہے آئند ہ سال غذائی قلت پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہاکہ زمینداروں کو امید تھی کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کاازالہ ہوگا لیکن ازالے کی بجائے رہی سہی فصلات کو راکھ کی ڈھیر میں تبدیل کرنے کیلئے وفاقی حکومت بضد ہیں ۔زمیندار ایکشن کمیٹی جلد سخت لائحہ عمل طے کریگی۔اگر 24گھنٹے میں بلوچستان کے تمام زرعی فیڈرز کی بجلی سابقہ شیڈول کے مطابق بحال نہ کی گئی تو بلوچستان بھر کے زمینداران 2001 کی جدوجہد کیلئے ایک بارپھر تیار ہیں جس میں زمینداروں پر حکومت کی جانب سے ناروا طریقے سے فائرنگ کے نتیجے میں5زمینداران شہید اور11زخمی ہوگئے تھے اور زندگی بھر کیلئے معذور ہوگئے تھے ۔صوبائی اور وفاقی حکومتیں ہوش کے ناخن لیں بصورت دیگر تمام تر نقصانات کے ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی ۔


