نام نہاد اسمگلر مافیاز کی جانب سے بین الاقوامی شاہراہ کو بند کرناقابل مذمت ہے ، کسٹمز کوئٹہ
کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کسٹمز کوئٹہ کے میڈیا سیل نے گذشتہ روز سوشل میڈیا پر تفتان روٹ دالبندین اور پاک افغان باڑدر چمن میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے اپنی بیان جاری کرتے ہوے کہا کہ جس کے مطابق چندشر پسند اور بد نام زمانہ اسمگلنگ مافیہ گروپ کی جانب سے شیخ واصل مستونگ کے مقام پر ایک پلان کے تحت چیف کلیکٹر کسٹم بلوچستان کا راستہ روکنے اور دالبندین کے مقام پر کسٹمز ہاوس کے سامنے روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کرنے کے عمل اور کسٹمز افسران کیخلاف پروپیگنڈہ کی سختی سے مذمت کی۔ اور اسے سرکاری کام میں مداخلت قرار دیا۔ غیر قانونی اور نام نہاد اسمگلر مافیاز کی جانب سے بین الاقوامی شاہراہ کو بند کرنا اور کسٹمز حکام کے خلاف دروغ گوئی سے کام لینا قابل مذمت ہے واضح رہے کسٹمز انفورسمنٹ دالبندین یونٹ نے مقامی انتظامیہ لیویز کے تعاون سے چینی کی اسمگلنگ کے خلاف وفاقی گورنمنٹ کی ہدایات پر کریک ڈان جاری رکھا۔ گزشتہ دنوں دو مختلف کاروائیوں کے دوران سینکڑوں پارسلز چینی اور دیگر اشیا کی اسمگلنگ ناکام بنا تے ہوئے سامان تحویل میں لیا گیا۔ جس پر چند شر پسند عناصر نے انٹر نیشنل روٹ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک کو بند کر دیا۔ بعدازاں کسٹمز اور ضلعی انتظامیہ کی کوششوں سے روٹ پر ٹریفک واپس بحال کر دیا۔جبکہ دوسری جانب اسمگلروں نے اپنے دیگر کارندوں کو اطلاع دے کر شیخ واصل ضلع مستونگ کے مقام پر زبردستی روڈ بلاک کرکے تفتان کا دورہ کرنے کے بعد واپس کوئٹہ آتے ہوئے چیف کلیکٹر کسٹم بلوچستان کا راستہ روکا ۔ اور ناجائز غیر قانونی طور پر اسمگلنگ کا سامان جوکہ دالبندین کسٹم نے پکڑا کو چھڑایا جائے اس موقع پر اسمگلروں کی بڑی تعداد موجود تھے۔ اسمگلر مافیاز نے چیف کلیکٹر کسٹم بلوچستان سے غیر قانونی کام کو جاری رکھنے کی استدعا کی۔اور وہ اسمگلنگ کی اجازت دینے پر اصرار کرتے رہے چیف کلیکٹر بلوچستان نے اسمگلروں کی ڈیمانڈ کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے واضح کردی کہ اسمگلنگ جیسے ناسور کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جاسکتی واضح رہے موجودہ چیف کلیکٹر محمد سلیم اور کلیکٹر انفورسمنٹ سمیع الحق کی جانب سے تمام انفورسمنٹ یونٹس کو سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ ہر قسم کی اسمگلنگ کو روکنے کی کوشش کی جائے جس پر رخشاں ڈویژن میں تعینات سینئر کسٹمز افسیر آصف زمان نے انتہائی قلیل عملہ کے صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وسیع وعریض اور حساس علاقوں میں کاروائی کی۔ جس کی وجہ سے علاقے میں ہر قسم کی اسمگلنگ بشمول جاپانی سامان اور دیگر اشیا کے خلاف زور شور سے کاروائیاں جاری و ساری ہے رخشاں ڈویژن میں واقع انفورسمنٹ یونٹ نے ابتک اربوں روپے مالیت کے کسیز کئے۔ بہت کم افرادی قوت سے اس وسیع علاقے میں یہ کاروائیاں انتہائی مشکل تصور کیے جاتے ہیں ۔ واضح رہے چند شر پسند عناصر جو بلا روک ٹوک کے غیر قانونیکارروائیوں میں ملوث ہے اور کھلم کھلا لوگوں سے پیسے بٹور کر کے کسٹمز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کو اب مشکل نظر ارہا ہے لہذا اب وہ جھوٹ اور پروپیگنڈہے کے زریعے متعلقہ افیسران اور محکمے کو بلیک میل کر نا چاہتے ہیں ۔ جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں جائز ،صاف وشفاف کاروبار کرنے والے تاجر اور رجسٹر ڈ ٹرانسپورٹ کے نمائندے ہمیشہ سے کسٹم حکام کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف کسٹمز کے ساتھ کھڑے ہیںمزید برآں پاک افغان بارڈر چمن کے مقام پر سریا کے اسمگلنگ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والے نیوز کی بھی وضاحت کر دی۔ جس کے مطابق چند دن پہلے چند عناصر اسمگلنگ کے نیت سے 5 ٹرک سریا لانا چاہتے تھے۔ جب کسٹمز حکام کو اطلاع ملی تو انھوں نے سختی کردی۔ مجبور اسمگلروں نے درخواست جمع کر کے ٹیکس جمع کرانے پر رضا مندی ظاہر کی جس پر انھوں نے ایک ٹرک سریا سے لوڈ کسٹم ھاوس روانہ کی جو راستے میں الٹ گئی۔ واضح رہے سریا پر ٹیکس وفاقی حکومت نے بڑھائ۔ وفاقی گورنمنٹ کی پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے سریا تاجران کو مطلع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ پرانی ٹیکس پر گاڑی کلئیر کرانے پر بضد رہے اسی سلسلے میں آج چند عناصر نے کسٹمز ھاوس میں اسٹاف کو ہراساں کرنے کی کوشش کی اور افسروں سے تو تو میں کرکے سرکاری کام میں مداخلت کی کوشش کی۔ جیسے بروقت ناکام بنادیا اور شر پسند عناصر کو تنبیہ کے وہ اس قسم کے حرکات سے دور رہے۔ اور سرکاری کام میں مداخلت سے باز رہے۔


