خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع ميں انٹرنيٹ کی عدم دستيابی، طلبا کے ليے مسئلہ

قبائلی علاقوں ميں انٹرنيٹ کی عدم دستيابی طلباء کے ليے بڑا مسئلہ ہے تاہم تعليمی اداروں کا کہنا ہے کہ يہ مسئلہ ان کی وجہ سے نہيں جبکہ حکام کہہ رہے ہيں کہ سکیورٹی اداروں کی منظوری کے بعد ان علاقوں ميں ٹاورز لگائے جائیں گے۔
صوبے کی کئی یونیورسٹيوں میں زیر تعلیم طلباء نے اپنے مسائل حکومت تک پہنچانے کے ليے صوبے کے مختلف اضلاع میں مظاہرے بھی کيے، جو اب بھی جاری ہيں۔ کچھ طلبا اس مسئلے کو عدالت بھی لے کر گئے، جہاں عدالت نے وفاقی حکومت کو ضم شدہ اضلاع میں انٹرنیٹ کی بحالی کے احکامات جاری کيے۔ اس کے بعد جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ نے وانا کے علاقے چگ ملائی، موسی نیکا اور مولا سرائے میں محدود پیمانے پر کچھ انٹرنیٹ کیفوں کا انتظام بھی کیا لیکن انٹرنیٹ کے سگنل محدود ہونے کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے طلبا آن لائن کلاسز کے ليے دوسرے اضلاع میں رہنے پر مجبور ہیں۔

ایبٹ آباد کی ايک نجی یونیورسٹی ميں زير تعليم تین دوست ڈیرہ اسماعیل خان میں یومیہ تين ہزار روپے پر ایک کمرہ لے کر اکھٹے رہ رہے ہیں تاکہ آن لائن کلاسز لے سکیں۔ انہی میں سے ایک طالب علم فرمان اللہ نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ ہوٹل میں کھانا بھی خود بنانا پڑتا ہے کیونکہ وہ روزانہ باہر سے کھانا خريدنے کی حيثيت نہیں رکھتے۔ علاوہ ازيں وزیرستان کے ٹھنڈے علاقوں کے افراد کے ليے ڈیرہ اسماعیل خان کی گرمی میں رہنا بھی ایک مشکل کام ہے۔

تنائی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے بلال وزیر، جو پرائیویٹ یونیورسٹی میں بی بی اے کے طالب علم ہیں، نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے بھی اُن کے کافی اسائنمنٹ اور لیکچرز مس ہو گئے تھے۔ اس ليے انہوں نے سوچا کہ مزید نقصان اُٹھانے کی بجائے تین دوست اکھٹے کمرہ لے کر کام چلا لیں۔ انہی کے ایک اور دوست سردار روئف نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ ان کی یونیورسٹی والے پوچھتے ہیں، ”آپ کے علاقوں میں انٹرنیٹ کیوں نہیں۔ اب ہم ان کو کیا بتائیں کہ وہاں انٹرنیٹ کیوں نہیں ہے۔‘‘

باجوڑ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے پرائیویٹ یونیورسٹی کے طالب علم اور ٹرائیبل یوتھ فورم کے مرکزی چیئرمین ریحان زیب نے طلبا کے ساتھ ضلع باجوڑ کے ہیڈ کواٹر خار میں قبائلی اضلاع میں تھری جی فور جی انٹر نیٹ کی بندش کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی، ایچ ای سی کی پالیسيوں کے جائزے اور قبائلی اضلاع میں آن لائن کلاسز کی سہولت کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان علاقوں کے طلباء کی پروموشن کے قوائد میں نرمی کے مطالبات شامل تھے۔

ریحان زیب نے بتایا کہ اگرچہ باجوڑ کے علاقے خار اور سالارزئی میں انٹرنیٹ سگنل ہیں لیکن وہ اس قابل نہیں کہ اس پر آن لائن کلاسز لی جا سکیں جبکہ ضلعے کے باقی حصوں میں تو یہ سہولت بھی نہیں اور باقی قبائلی اضلاع بھی تھری جی فور جی انٹر نیٹ کی سہولت سے سن 2016 سے محروم ہیں۔ ریحان زیب نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حکومت نے اس مسئلے کا حل نہ نکالا، تو قبائلی اضلاع کے 25 ہزار طلباءکا مستقبل داﺅ پر لگ جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں