2021میں ایک تعلیمی نصاب

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمودنے یکساں قومی نصاب اور ہمارانظام تعلیم کے موضوع پر اسلام آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2021 میں تمام بچے یکساں نصاب پڑھیں گے۔آج نظام تعلیم کے اندر طبقاتی تفریق ہے اس کے خاتمے اور قوم کو یکجا کرنے کے لئے نصاب کو یکساں کرنا ضروری ہے۔پرائمری کی سطح تک یکساں نصاب تشکیل پا چکا ہے19مارچ کو اس مقصد کے لئے قومی کانفرنس منعقد ہوگی جس میں یکساں نصاب کے اطلاق، زبان کے انتخاب اور دیگر اہم موضوعات پر بحث کی جائے گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے تعلیمی نصاب پر بھرپور توجہ دی اور ملک میں رائج چار نظام ہائے تعلیم کی موجودگی کے خاتمے کی بات کی۔ایک نظام دینی تعلیم کی ترویج کے لئے مدارس کی شکل میں قائم ہے یہاں سے فارغ التحصیل طلباء کی اکثریت مساجد میں پیش امام کے فرائض سنبھالتے ہیں اور بعض اسکولوں میں اسلامیا ت اور عربی کے ٹیچر کے طورپر کام کرتے ہیں زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کی کھپت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔دینی مدارس میں انہیں قلیل مشاہرہ ملتا ہے اور انہیں مجبوراً گھروں پر بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھا کر اپنا پیٹ پالناپڑتا ہے۔دوسرا نظام تعلیم سرکاریانتظام میں ہے یہاں اساتذہ کو معقول تنخواہ اور دیگر مراعات میسر ہیں عمارتیں کشادہ ہیں مگر عدم توجہی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں خستہ حالت میں ہیں مرمت کے لئے فنڈز کی کمی کے علاوہ رشوت اور چور بازاری بھی ناسور کی طرح تعلیمی شعبے کو نیم مردہ بنا رکھا ہے۔ گھوسٹ اسکولوں اور گھوسٹ اساتذہ کی تعداد لاکھوں میں سامنے آئی مگر ختم نہیں ہو سکی۔گورنمنٹ ملازمت یوں تو ہر جگہ بدعنوانی کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے لیکن اساتذہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں۔افسران کی ملی بھگت سے گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلانا پسند نہیں کرتے۔اس کا فائدہ نجی اسکول مالکان اٹھاتے ہیں۔نجی اسکول بھی دو قسم کے ہیں؛ ایک مہنگے اسکول ہیں اور او لیول اور اے لیول کی تعلیم دیتے ہیں جبکہ دوسرے گلی کوچوں میں چھوٹے چھوٹے گھروں میں قائم ہیں اورکم فیس وصول کرنے کی وجہ سے ٹیچرز کو نہایت معمولی تنخواہ ادا کرتے ہیں جو اکثر کیسز میں پانچ چھ ہزار سے زیادہ نہیں ہوتے۔دیگر اسکول بھی 15سے 20ہزار روپے ماہانہ تک محدود ہے۔کچی بستوں میں قائم اسکول اس کی تکلیف دہ مثال ہیں۔درمیانہ طبقہ اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرتا ہے۔ٹیوشن کے بغیر بچے ہوم ورک نہیں کر سکتے۔انگلش میڈیم کے نام پر عجیب طوفانِ بدتمیزی مچا ہوا ہے۔جو لوگ اپنی جوائننگ رپورٹ نہیں لکھ سکتے ٹیوشن سینٹر چلارہے ہیں۔وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے 2021میں پرائمری کی سطح تک یکساں نصاب نافذ کئے جانے کی نوید سنائی ہے۔ 19 مارچ کو قومی کانفرنس میں معلوم ہوسکے گا کہ اس سمت میں حکومت نے کتنا سفر طے کر لیا ہے۔یہ کام مشکل ہی نہیں انتہائی نازک بھی ہے۔ معلوم نہیں حکومت نے یکساں تعلیمی نصاب کی تیاری میں شہری اور دیہی تفریق کے خاتمے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں اس لئے کہ دیہی بچوں کو وہ سہولتیں میسر نہیں ہوتیں جو شہری بچوں کو حاصل ہیں۔یاد رہے ہماری دیہی آبادی 70فیصد کے لگ بھگ ہے۔اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ نوجوانوں کی اکثریت دیہاتوں میں آباد ہے۔انہیں شہری طلباء جیسی مراعات نہ فراہم کی گئیں تووہ پیچھے رہ جائیں گے۔تاہم حکومت کی خواہش ہے کہ نچلے طبقے کو ہر ممکن کوشش سے اوپر لایا جائے۔ڈیڑھ سال میں مدارس کوسائنس اور کمپیوٹر جیسے دیگر مضامین پڑھنے کے لئے ذہنی طور پر آمادہ کرنا آسان کام نہیں تھا۔شکر ہے کہ علماء کی اکثر یت نے عصری تقاضوں کے پیش نظر رضامندی ظاہر کردی ہے انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ مستقبل میں علماء جدید علوم کا حصہ نہ بنے تو تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔کمپیوٹر ایسی جدید ایجاد ہے جوہر نوجوان کے ہاتھ تک پہنچ چکی ہے اور معاشرے کوچاروں اطراف سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔معصوم بچے بھی بولنا بعدمیں شرو ع کر تے ہیں لیکن سادہ موبائل لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔جب معاشرہ علم تک رسائی حاصل کرلیتا ہے تو وہ استدلال کے بغیر کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ویسے بھی اب کاریں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں ہر چیز کمپیوٹرائزڈ ہے ڈرائیور کے بغیر چلائی جانے لگی ہیں۔ان کی مرمت کے لئے بھی ایسا مکینک درکار ہوگا جو کمپیوٹر چلانے کا ہنر جانتا ہو۔ ایسے معاشرے میں مدارس کے طلباء کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوگا اگر انہیں کمپیوٹر کی تعلیم سے روکا جائے۔مادری زبان میں تعلیم دینے کا سوال بھی بحث طلب ہے۔دنیامانتی ہے کہ بچہ مادری زبان میں تمام علوم آسانی سے سیکھ لیتا ہے انگریز ی زبان میں درس و تدریس انگریزی زبان سیکھے اور سکھائے بغیر ممکن نہیں۔اس سوال پر سنجیدہ بحث کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجا سکتاامید ہے حکومت نے اس حوالے سے بھی تمام امور کا جائزہ لیا ہوگاایسا نہ ہو کہ یکساں تعلیمی نصاب نافذ کرنے کی خواہش میں یہ پہلو نظروں سے اوجھل رہ جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں