اسلحہ، شراب برآمدگی کیس، وزیر اعلیٰ پختونخوا کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا، سماعت 6جون تک ملتوی
اسلام آباد (این این آئی)وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف غیر قانونی اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس میں 342 کا بیان آج بھی ریکارڈ نا ہوسکا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں علی امین گنڈاپور کے خلاف کیس کی سماعت جج صہیب بلال رانجھا نے کی، علی امین گنڈاپور کے وکیل ظہور الحسن ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت علی امین گنڈاپور کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جسے عدالت نے منظور کر لی۔ بعد ازاں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ3مئی کو وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلحہ، شراب برآمدگی کیس میں تمام گواہان پر جرح مکمل کرلی گئی تھی۔29اپریل کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف غیر قانونی اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس میں اگلی سماعت پر شہادتیں مکمل کرنے اور جرح کرنے کی ہدایت کردی تھی۔27اپریل کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی گئی تھی۔یاد رہے کہ 7 مارچ کو اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کے خلاف غیر قانونی اسلحہ اور شراب کا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا تھا جبکہ تحریک انصاف کے رہنما کو اشتہاری قرار دینے کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔27اپریل کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی گئی تھی۔


